امریکیوں کو ایران کے ساتھ جنگ لمبی چلنے کا یقین، نئے سروے میں انکشاف
امریکا میں ہونے والے ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ بڑی تعداد میں امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ جلد ختم نہیں ہوگی بلکہ یہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور اِپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق 79 فیصد امریکیوں نے کہا ہے کہ ایران میں امریکا کی فوجی کارروائی طویل مدت تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
یہ شرح مارچ کے آخر میں کیے گئے سروے کے مقابلے میں زیادہ ہے، جب 65 فیصد افراد نے جنگ کے لمبا چلنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
سروے میں صرف 18 فیصد افراد نے رائے دی کہ جنگ چند ہفتوں میں جلد ختم ہو سکتی ہے۔
سروے میں 60 فیصد امریکی شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جنگ کے باعث آئندہ ایک سال کے دوران پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ جبکہ نصف افراد نے کہا کہ ان کے خیال میں اس جنگ کی قیمت اس کے فوائد سے زیادہ ہے۔
سروے کے مطابق 37 فیصد امریکی شہریوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کی حمایت کی۔
رائٹرز اور اِپسوس کا یہ تین روزہ سروے اتوار کو مکمل ہوا، جس دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آٰیا۔
رائے شماری میں ملک بھر سے 1019 امریکی شہریوں نے حصہ لیا، جبکہ نتائج میں تقریباً 4 فیصد غلطی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خلیج میں ایرانی بحری جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے۔
واشنگٹن نے 26 جون کو ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ امریکا خلیج میں ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد معاوضہ امریکا کو دیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے اہم بحری راستہ بند کرنے کا اعلان کیا اور دونوں ممالک کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
حالیہ کشیدگی نے گزشتہ ماہ ہونے والے عبوری معاہدے پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، جنگ روکنے اور مزید مذاکرات کے لیے 60 دن کا وقت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اگرچہ انہوں نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران تنازع شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت بھی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی کا مسئلہ ری پبلکن پارٹی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت حال میں پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھنے اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں اپنی پوزیشن بچانے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔