'فیس لینے کا آئیڈیا اچھا نہیں' صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ٹول وصولی کے بیان پر یوٹرن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کے بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ انہوں نے اس یوٹرن کی وضاحت دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیس وصولی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک نے انہیں آبنائے ہرمز میں تحفظ کے بدلے امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کو معاہدہ کرنے کا موقع دیا تھا، تاہم ایران نے حملے میں پہل کی اور معاہدہ توڑ دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں انہیں معاہدہ کرنے کا موقع دینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے پہلے حملہ کیا، جو ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اس حملے کے بعد ہم نے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔‘
صدر ٹرمپ نے ایرانیوں کو ’مشکل لوگ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اب بہت زیادہ غیر مستحکم ہو چکا ہے اور اس کی فوجی طاقت اب ویسی نہیں رہی جیسی چار مہینے پہلے تھی۔
عراقی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکا عراق کے ساتھ تیل کے شعبے میں بڑے معاہدے کرے گا، جس سے دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ان مجوزہ معاہدوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیر کے روز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹول عائد کرنے کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک نے ان سے رابطہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک نے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے کو مختلف انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں تحفظ کے بدلے امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے نئے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے تصور سے اتفاق نہیں کرتے لیکن یہ بھی انصاف نہیں کہ آبنائے ہرمز میں پوری دنیا کا تحفظ صرف ہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس اہم بحری گزرگاہ پر فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی انہوں نے تجویز دی تھی کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹرانزٹ فیس عائد کرے گا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت گفتگو ہوئی ہے جس کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز سے 20 فیصد ’ری ایمبرسمنٹ فیس‘ کے بجائے خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے منگل کی شام آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے ’قیشم‘ پر میزائل حملے کیے جب کہ جزیرہ ’کیش‘ پر ایک میزائیل نے پانی اور بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کے شہر اندیمشک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کی جانب سے اردن، بحرین اور کویت میں بھی امریکی اہداف پر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اردن نے چار بیلسٹک میزائل مار گرانے کا اعلان کیا ہے جب کہ کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔