آزاد کشمیر انتخابات کا میدان تیار، مگر سیاسی گہما گہمی ماند کیوں پڑ گئی؟

آزاد جموں کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں 45 حلقوں سے 852 امیدوار حصہ لیں گے
اپ ڈیٹ 15 جولائ 2026 08:36pm

پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، تاہم ماضی کے برعکس اس بار انتخابی ماحول خاصا پھیکا دکھائی دے رہا ہے۔

آزاد جموں کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں 45 حلقوں سے 852 امیدوار حصہ لیں گے۔ 24 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں کو بھی نشان الاٹ ہو چکے ہیں جبکہ ووٹرز کی کُل تعداد 23 لاکھ 50 ہزار کے قریب بتائی گئی ہے۔

انتخابات میں آزاد کشمیر کی عام نشستوں کے علاوہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن واضح کر چکا ہے کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف انداز میں کرانے کے لیے تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

آزاد کشمیر انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے اعلان کے پیش نظر احتجاجی تحریک اور امن و امان کی صورت حال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

حکومت نے ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت سے اضافی سیکیورٹی اہلکار طلب کیے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار انتخابی مہم گزشتہ انتخابات جیسی نہیں ہے۔ بڑے جلسے، ریلیاں تقریباً نظر نہیں آ رہیں، جبکہ بیشتر امیدوار محدود پیمانے پر گھر گھر جا کر ووٹرز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں انتخابی بینرز، پوسٹرز اور وال چاکنگ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ابھی تک صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور ٹکٹ ہولڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں ہمارا خون گرے گا، اور اگر کشمیریوں کے آنسو بہیں گے تو ہمارے خون کے آنسو بہیں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی بعض حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کا آغاز کیا گیا ہے۔

اُدھر پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت نے بھی اب تک بھرپور انتخابی مہم شروع نہیں کی ہے۔

بعض امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مہم چلا رہے ہیں اور انہیں اپنے حلقوں میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق انتخابی سرگرمیوں میں کمی کے باعث اس سے وابستہ کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پرنٹنگ، کیٹرنگ اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں انتخابات کے دوران انہیں بڑی تعداد میں آرڈرز ملتے تھے، لیکن اس بار کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

مقامی صحافی فرحان طارق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انہوں نے مظفر آباد اور وادی نیلم کا دورہ کر کے وہاں پر انتخابی مہم کا جائزہ لیا لیکن ان علاقوں میں کارنر میٹنگز نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیدوار اپنے چند حمایتیوں کو ساتھ لے کر گھر گھر جا کر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور اگر کسی کا کوئی بڑا گھر ہے، جہاں پر دو درجن سے زیادہ لوگ بیٹھ سکیں تو وہاں پر ہی لوگوں کو جمع کر کے انتخابی مہم چلائی جار ہی ہے۔

ادھر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اب تک کسی امیدوار کی جانب سے انتخابی مہم میں رکاوٹ یا تشدد کی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج اور کشیدہ صورتحال کے باوجود انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق کرانے کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ آزاد جموں و کشمیر چودھری گفتار حسین کا کہنا ہے کہ انتخابات 27 جولائی کو مقررہ وقت پر ہوں گے اور مسلح جتھوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

Read Comments