بھارتی خلائی ایجنسی کے 100 سے زائد سائنس دان مستعفی، وجہ کیا ہے؟

بھارتی خلائی ایجنسی کے مطابق مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانوں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
شائع 16 جولائ 2026 12:13pm

بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو کے سو سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے اچانک استعفوں نے پریشانی کی صورتِ حال پیدا کردی ہے، جس کے بعد حکومت کو مجبوراً، استعفے منظور کرنے کے قوانین کو سخت کرنا پڑا ہے۔ اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔

حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملازمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔

دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا۔ نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔

دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد صرف لوگوں کو روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم منصوبوں کا کام اچانک متاثر نہ ہو۔ اگر کوئی ملازم جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ماہرین کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

اگرچہ اسرو میں مجموعی طور پر 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور100 افراد کا استعفیٰ بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن اصل تشویش ان سائنس دانوں کے پاس موجود برسوں کا وہ تجربہ ہے جو انہوں نے پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کر کے حاصل کیا ہے۔ نئے لوگوں کو بھرتی کرنا تو آسان ہے لیکن ان کی جگہ ایسے ماہرین لانا انتہائی مشکل ہے جو حساس منصوبوں کی باریکیوں سے واقف ہوں۔

اسرو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانوں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

Read Comments