ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، ایران کی حوثیوں کو تیار رہنے کی ہدایت

امریکا نے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو باب المندب بند ہوگا: ایران کا حوثیوں کو پیغام
اپ ڈیٹ 16 جولائ 2026 08:04pm

ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثی باغیوں کو پیغام پہنچایا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل متاثر کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایرانی قیادت نے اس معاملے پر تفصیلی غور و فکر کے بعد حال ہی میں حوثیوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

گزشتہ دنوں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران اگلے ہفتے تک دوبارہ مذاکرات اور نئے معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو ہم ان کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کردیں گے۔

دوسری جانب رائٹرز نے حوثی گروپ کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب کارروائیوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے پہاڑی علاقوں، الحدیدہ بندرگاہ اور خلیجِ عدن کے قریب میزائل اور ڈرونز تعینات کر دیے ہیں اور کارروائی کے حکم کے انتظار میں ہیں۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بحری گزرگاہ اس لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے کہ کیوں کہ بحر ہند سے آنے والے تمام بحری جہاز اسی راستے سے گزر کر بحیرہ احمر اور پھر وہاں سے نہرِ سویز کے ذریعے یورپ اور بحیرہ روم تک پہنچتے ہیں۔

باب المندب کے ایک طرف یمن واقع ہے جب کہ دوسری جانب افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ کیوں کہ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے دو اہم راستے بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس صورت حال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر دباؤ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ باب المندب سے متعلق کسی بھی کارروائی کے فیصلے میں مرکزی کردار یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کا ہوگا۔

گزشتہ چند روز کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے یمنی حکومت کی جانب سے عدن ایئرپورٹ پر حملوں کے جواب میں سعودی عرب پر بھی میزائیل حملے کیے گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

رائٹرز نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ریاض ایران اور حوثیوں کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یمنی گروپ بحیرۂ احمر کے معاملے پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

یاد رہے کہ ایران حوثیوں کو خطے میں اپنے مزاحمتی محور کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کے بعض مسلح گروہ بھی شامل ہیں تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے خطے میں شروع ہونے والی جنگ میں حوثی گروپ نے اب تک باضابطہ طور پر براہ راست شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔

Read Comments