پاکستان مصنوعی ذہانت کی بین الاقوامی تنظیم کا بانی رکن بن گیا

شنگھائی میں قائم ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے تعاون اور گورننس کو فروغ دے گی
اپ ڈیٹ 16 جولائ 2026 10:54pm

پاکستان ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (وائیکو) کا بانی رکن بن گیا ہے۔ اس نئی بین الحکومتی تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، مؤثر گورننس اور محفوظ و منصفانہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔

چین کے شہر شنگھائی میں جمعرات کو ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (وائیکو) کے قیام کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان سمیت 29 ممالک نے اس تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔

دستخطی تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

تقریب میں پاکستان، روس، انڈونیشیا، قازقستان، لاؤس سمیت مختلف ایشیائی اور افریقی ممالک کے نمائندوں نے بانی اراکین کی حیثیت سے معاہدے پر دستخط کیے۔

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کے ساتھ ہی پاکستان اس نئی بین الحکومتی عالمی تنظیم کا بانی رکن بن گیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس موقع پر پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں مساوی ترقی کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود عالمی تقسیم کو کم کرنے، اے آئی ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور ترقی کے ثمرات کو زیادہ سے زیادہ ممالک تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے گا۔

چین کی قیادت میں قائم ہونے والی اس بین الاقوامی تنظیم میں زیادہ تر ممالک کا تعلق گلوبل ساؤتھ ریجن اور ترقی پذیر خطوں سے ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک میں چین، پاکستان، روس، برازیل، انڈونیشیا، قازقستان، بیلاروس، سربیا، کیوبا، وینزویلا اور لاؤس سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گلوبل ساؤتھ سے مراد کوئی جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی اور معاشی اصطلاح ہے۔ یعنی وہ ممالک جنہیں عام طور پر ترقی پذیر، کم آمدنی والے یا نوآبادیاتی پس منظر رکھنے والے ممالک کہا جاتا ہے، اسی بلاک میں شمار ہوتے ہیں۔

اگرچہ چین معاشی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اب ایک عالمی سپر پاور بن چکا ہے تاہم وہ خود کو ہمیشہ ’گلوبل ساؤتھ‘ کا حصہ قرار دیتا ہے۔

گلوبل ساؤتھ کے برعکس، گلوبل نارتھ سے مراد دنیا کے امیر، ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک ہیں جس میں امریکا، کینیڈا، یورپ کے تمام ممالک، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا جغرافیائی طور پر دنیا کے جنوب میں ہے لیکن امیر اور ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے اسے ’گلوبل نارتھ‘ کا حصہ مانا جاتا ہے۔

معاہدے کے مطابق وائیکو ایک آزاد بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم ہوگی، جس کا مستقل ہیڈکوارٹر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔

چینی میڈیا کے مطابق معاہدے میں واضح ہے کہ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے منشور اور اصولوں کی پاسداری کرے گی اور رکن ممالک کے درمیان وسیع مشاورت، مشترکہ تعاون اور باہمی مفاد کے اصولوں کو فروغ دے گی اور ساتھ ہی ہر معاملے میں انسانی مفادات کو بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا جائے گا۔

دوسری جانب چین کے شہر شنگھائی میں چار روزہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے۔ 17 سے 20 جولائی تک جاری رہنے اس عالمی کانفرنس میں دنیا بھر سے حکومتی نمائندے، ماہرین، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور بین الاقوامی تنظیمیں کی شرکت متوقع ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس کانفرنس میں چینی صدر شی جن پنگ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی گورننس سے متعلق چین کا مستقبل کا وژن پیش کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق چین اس موقع پر اوپن سورس اور کم لاگت والے اے آئی ماڈلز کو ترقی پذیر ممالک کے لیے موزوں متبادل کے طور پر پیش کرے گا اور عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی کی حمایت کرے گا۔

Read Comments