ایرانی فوجیوں کی شہادت، ایران کا شام میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کا دعویٰ

یہ کارروائی ایرانی شہر ایرانشہر میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے: آئی آر جی سی
اپ ڈیٹ 17 جولائ 2026 11:40am

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کے کمانڈ سینٹر ”التنف“ کو نشانہ بنایا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی شہر ایرانشہر میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام کے التنف میں موجود امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو ایرانشہر میں ہمارے فوجیوں کی شہادت کے ردعمل میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ دوسری جانب شام کی حکومت اور امریکی فوج کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی فوج نے رواں برس فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے شام، اردن اور عراق کی سرحدوں کے سنگم پر واقع التنف فوجی اڈے سے اپنی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

شام نے اب تک خطے میں جاری کشیدگی سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے دوران لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان لڑائی ہوئی، جبکہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور راکٹ حملے کیے۔

شامی صدر احمد الشرع نے مارچ میں لندن میں چیتھم ہاؤس کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھ کہ اگر شام پر کسی بھی فریق کی جانب سے حملہ نہیں کیا جاتا تو شام کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک امریکا کے حملے جاری رہیں گے، اس وقت تک آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی کوئی برآمدات نہیں ہونے دی جائیں گی۔

تاحال امریکی حکام کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ شام کی حکومت نے بھی اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

Read Comments