آبنائے ہرمز کھلوا سکتے ہیں تو کشمیر بھی کھلوائیں، بلاول بھٹو کی حکومت پر تنقید

آزاد کشمیر کے بحران پر مصالحتی کمیشن بنانے کا مطالبہ، وفاقی وزیر کے بیان پر بھی وزیراعظم سے وضاحت طلب
اپ ڈیٹ 17 جولائ 2026 07:59pm

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال کو ریاست پاکستان اور سیاست دانوں کے لیے امتحان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی بحران کا حل صرف مذاکرات اور سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے، جب کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے۔

ڈڈیال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اس نوعیت کے حالات انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف کشمیری عوام ہی نہیں بل کہ ریاست پاکستان اور سیاست دانوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بل کہ عوام کی نمائندگی اور ان کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کی آواز اسلام آباد تک پہنچائیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بل کہ گلگت بلتستان کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جب کہ ہر مسئلے کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا اور اگر کسی کشمیری کی آنکھ میں آنسو ہوگا تو ہماری آنکھوں میں بھی خون کے آنسو ہوں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مصالحتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والے دونوں کمیشن کی رپورٹ آنے تک اپنے اپنے اقدامات روک دیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب تک نہ حکومت اور نہ ہی احتجاج کرنے والوں نے ان کی تجویز کا جواب دیا ہے۔ اگر ان کی تجویز قبول نہیں تو پھر بتایا جائے کہ اس بحران کا متبادل حل کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے، مگر ایسا احتجاج جس کے نتیجے میں خوراک، ایندھن اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات آزاد جموں و کشمیر تک نہ پہنچ سکیں، کسی بھی طور عوام کے مفاد میں نہیں۔ اس کا نقصان نہ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کو ہوتا ہے، نہ ریاستِ پاکستان کو، بل کہ اس کی قیمت صرف اور صرف کشمیری عوام ادا کرتے ہیں، جنہیں روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ نہ اسلام آباد کی جیب میں ہے اور نہ ہی پنڈی کی، بل کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں بھی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو شکست دے گی اور 27 جولائی کے انتخابات میں عوام اس کا عملی ثبوت دیں گے۔

انہوں نے خطاب میں کہا کہ وہ میرپور، کوٹلی، ڈڈیال اور راولاکوٹ سمیت پورے آزاد کشمیر کے عوام کو کشمیری مانتے ہیں، جب کہ مہاجرین کی نشستوں پر بھی پیپلز پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

بلاول بھٹو نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا نام لیے بغیر ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے متنازع بیان دیا، انہیں وضاحت کا موقع بھی ملا، لیکن تیس دن گزرنے کے بعد بھی وہ آج تک اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیر آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ میرپور، کوٹلی اور راولاکوٹ کشمیر کا حصہ نہیں تو پھر اسے وزارت چھوڑ دینی چاہیے۔

بلاول نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ آیا یہ وفاقی وزیر کا ذاتی مؤقف ہے یا وفاقی حکومت کی سرکاری پالیسی؟ ان کے بقول دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اگر یہ حکومتی مؤقف نہیں تو ایسے وزیر کو کابینہ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، بل کہ اسے فوری عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ایسی ناانصافی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے ایک اور وفاقی وزیر کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ ”آزاد کشمیر کی 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں“، اور کہا کہ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو کشمیر کے عوام کے جذبات اور مسائل کی کوئی پروا نہیں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہی آزاد کشمیر کے حقِ حاکمیت کی جدوجہد کر رہی ہے اور انتخابات کے بعد آئینی کنونشن بلا کر تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔

واضح رہے کہ ’بی بی سی‘ اردو کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے 22 جون کو نجی ٹی وی چینل ’سما‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’راولاکوٹ، دھیر کوٹ اور۔۔۔ میں تو ویسے بھی راولاکوٹ والوں کو اتنا لمبا چوڑا کشمیری مانتا بھی نہیں ہوں۔ وہ اپر پوٹھوہار والی زبان ہی بولتے ہیں اور یہی حال میرپور والوں کا بھی ہے۔‘

پروگرام میں آزاد کشمیر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور کالعدم قرار دی گئی عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر بات ہو رہی تھی۔

خواجہ آصف نے ٹی وی انٹرویو کے دوران دیے گئے اپنے متنازع بیان سے متعلق بعدازاں سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ایک وضاحت بھی جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شناخت کا تعین محض ”پیدائشی سرٹیفکیٹ“ سے نہیں بل کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے ہوتا ہے اور آزاد کشمیر میں رہنے والوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام اور 1947 کے مہاجر کشمیریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ڈدیال میں خطاب کے دوران خواجہ آصف کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کی اور وفاقی کابینہ میں موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ 27 جولائی کو نا صرف ہم پورے آزاد جموں و کشمیر سے شیر کا شکار کریں گے، بل کہ جو مہاجرین کی نشستیں پورے پاکستان میں ہیں جن کا آخری الیکشن ہے وہاں بھی عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب کریں گے۔

Read Comments