ٹرمپ کی ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری؛ اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور

اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی۔
شائع 18 جولائ 2026 12:29pm

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف جاری عسکری مہم کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کے لیے انتہائی اہم اور بڑے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبوں پر بریفنگ لی۔ اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے۔

اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہے۔

اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی۔

اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔

یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں“۔

اس شدید عسکری کشیدگی کے درمیان خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، مغربی سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قطر نے امریکا اور ایران کو ایک نئی پیشکش کی ہے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ تہران اس قطری پیشکش کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ یہ اس کے کچھ مطالبات کو پورا کرتی ہے، اور اسی وجہ سے ایران نے فی الحال قطر کی جانب اپنے حملے روک دیے ہیں۔

یہ تمام سفارتی اور عسکری تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے اندر عسکری ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، اور واشنگٹن کا موقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد صرف ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

Read Comments