امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد روک دیا

اس وقت ایران کی اولین ترجیح ملک کا دفاع ہے: نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی
اپ ڈیٹ 18 جولائ 2026 07:42pm

ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدے عملاً معطل کر دیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے معاہدے کی روح کو ختم کر دیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اس وقت اس کی اولین ترجیح ملک کا دفاع ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ ایران اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا، تاہم یہ پہلا موقع ہے جب تہران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق پر مزید عمل درآمد نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں معاہدے پر عمل ممکن نہیں رہا۔

دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت مذاکرات چھ ماہ تک جاری رہنے تھے، تاہم واشنگٹن نے اس یادداشت کی من مانی تشریح کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا تاکہ امریکا وہ مقاصد حاصل کر سکے جو میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی یہ تشریح مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تھی، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے بقول امریکا نے اب معاہدے اور بین الاقوامی اصولوں کے برخلاف جنگ شروع کر دی ہے اور ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر مسلسل ساتویں روز بھی حملے جاری رکھے، جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تازہ کارروائیوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملوں میں ایران کے نگرانی مراکز، فوجی رسد کے انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں واقع امریکی فضائی اڈے ”موفق السلطي ایئربیس“ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد اڈے سے دھویں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جب کہ آگ کی شدت کے باعث دھواں دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔

کویتی ذرائع کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں ایک فوجی تربیتی مرکز میں آگ لگ گئی، تاہم حکام نے فوری طور پر نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ ہو گئے، جس کے باعث بندر عباس، حاجی آباد اور شمالی علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ضلع جاسک کے مغربی علاقے میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں پینے کے پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔

الجزیرہ‘ کے مطابق خوزستان کے نائب گورنر برائے سیکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ گزشتہ دس روز کے دوران امریکا نے صوبے کے 95 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں 12 اضلاع شامل ہیں۔

ان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم آٹھ شہری شہید ہوئے، جب کہ ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے اب تک امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد شہید اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

Read Comments