امریکا کی ایران پر نویں روز بھی بمباری؛ پاسدارانِ انقلاب کا دو تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی افواج نے پیر کے روز مسلسل نویں دن ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تیل کے دو بحری جہازوں میں دھماکوں کے بعد عالمی سطح پر بحری آمدورفت اور توانائی کی فراہمی کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستوں میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو ناکارہ بنانے کے لیے کارروائی کی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے بتایا کہ امریکی میزائلوں نے پیر کی صبح سویرے ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا، جن میں تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر ماہ شہر اور بندر امام خمینی شامل ہیں، جہاں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اس صورتحال پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ جب تک ایران عالمی تجارتی جہاز رانی پر حملے جاری رکھے گا، امریکا اپنے ہدف پر قائم رہے گا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ”آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی سمندری راستہ ہے، اور ایران اس بین الاقوامی راستے میں جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب تک ایران اس بین الاقوامی راستے پر کنٹرول حاصل کرنے پر ضد کرے گا، ہمیں اس کا جواب دینا پڑے گا، تاہم امریکہ سفارتی حل کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے“۔
دوسری جانب، ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے شام کے علاقے التنف میں امریکا کے اسپیشل آپریشنز ہیڈ کوارٹر پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی طیاروں کو بھی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق کویت کے العذیری کیمپ اور علی السالم ایئر بیس پر امریکی فوجی اثاثوں پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔
کویت حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے ایک واٹر پلانٹ پر مسلسل دوسرے دن حملہ کیا گیا ہے جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی، اور اسے شہری انفراسٹرکچر پر براہ راست حملہ قرار دیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو یہ بھی دعویٰ کیا کہ دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دھماکوں کا شکار ہو کر ناکارہ ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی فوج نے ان جہازوں کو اس غیر محفوظ راستے سے گزرنے کے لیے اکسایا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب نے تنبیہ کی کہ جب تک علاقے میں امریکی جارحیت جاری رہے گی، یہ سمندری راستہ محفوظ نہیں ہوگا اور اس راستے سے پیٹرو کیمیکل مصنوعات یا تیل اور گیس کا ایک قطرہ بھی منتقل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ڈیٹا کے مطابق اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دو فیصد اضافے کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
جنگ کی اس تازہ لہر کے دوران امریکی فوج نے اپنے ایک اور اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جو شمالی عراق میں گرے ہوئے ایرانی ڈرون کے بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے جاں بحق ہوا۔
اس کے علاوہ اردن میں ہونے والے ایک حملے کے بعد لاپتہ اہلکار کی تلاش اور جائے وقوعہ سے ملنے والی نامعلوم باقیات کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔
ان تازہ اموات کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
اس تنازع کا آغاز 28 فروری کو ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو ناکارہ بنانے کے لیے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جس میں اب تک بالخصوص ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔