ایران کا بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو بیک وقت میزائل...
شائع 20 جولائ 2026 09:05pm

پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو بیک وقت میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، جن میں مختلف فوجی مراکز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر ”بیک وقت“ میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین کے السخیر ایئر بیس پر امریکی یونٹس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ڈرونز کی مرمت اور دیکھ بھال کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بحرین کی سلمان پورٹ پر موجود امریکی ٹاسک فورس 59 (TF59) کے بحری جہازوں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے ہینگرز پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعلقہ ڈھانچے تباہ اور جہازوں کو بھاری نقصان پہنچا۔

آئی آر جی سی کے مطابق کویت میں کیمپ عریفجان میں امریکی خصوصی بحری کمانڈو فورسز کی تعیناتی، معاونت اور سازوسامان کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے بعد ان تنصیبات کے مکمل طور پر تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس اب کم تعداد میں میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی ”نادانی اور لاعلمی“ کو ظاہر کرتا ہے اور دعویٰ کیا کہ اگر جنگ کئی برس تک بھی جاری رہی تو ایران کے پاس آخری دن تک لڑنے کے لیے کافی میزائل اور ڈرون موجود ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے ایران پر مسلسل نویں رات بھی حملے جاری رکھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں تبریز، چاہ بہار، سیرک، ہرمزگان، بوشہر اور کونارک کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تیل بردار ٹینکرز کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فضائیہ کے سی-17 اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ اور پی-8 کمانڈ اینڈ کنٹرول طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر بھی حملہ کیا گیا۔

ادھر برطانوی میری ٹائم حکام نے بتایا ہے کہ عمان کے شمال مغرب میں ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔

امریکی سینٹکام نے عراق میں ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوجی 18 جولائی کو عراق میں ایرانی ڈرون حملے میں مارا گیا۔

امریکا نے جمعے کو ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے دو امریکی فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی۔ پینٹاگون کے مطابق 25 سالہ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور 19 سالہ ازابیلا گونزالیز داعش کے خلاف مشن پر تعینات تھے۔

ایرانی حملوں سے متعلق دعوؤں پر فوری طور پر امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے مسلسل جاری ہیں۔

Read Comments