ٹرمپ کا نیویارک میں نیتن یاہو کی گرفتاری روکنے کے لیے ہر قدم اٹھانے کا عندیہ

نیتن یاہو کو کسی بھی صورت اور کسی بھی حالت میں گرفتار نہیں کیا جائے گا: ٹرمپ
شائع 21 جولائ 2026 09:54am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو جب بھی امریکا کا دورہ کریں گے، انہیں کسی بھی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ شہر کا قانونی محکمہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئیں تو قانون اس حوالے سے کیا اجازت دیتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بنیامین نیتن یاہو کو ریاستہائے متحدہ امریکا میں کسی بھی طرح، کسی بھی صورت اور کسی بھی حالت میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

اگرچہ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ظہران ممدانی کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیل کے کردار کو سراہتے ہوئے اس کا ذکر کیا۔

یاد رہے کہ نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 2024 میں غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ تاہم اسرائیل اس عدالت کے اختیارِ سماعت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس پر لگائے گئے تمام جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ہفتے کو نشر ہونے والے نیویارک ٹائمز کے ویڈیو پوڈکاسٹ ”دی انٹرویو“ میں کہا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کا مقام ہیگ میں ہے۔ وہ جنگی مجرم ہیں جن پر بین الاقوامی فوجداری عدالت فردِ جرم عائد کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیویارک شہر کا قانونی محکمہ اس بات پر سرگرمی سے غور کر رہا ہے کہ قانون اس معاملے میں کیا اجازت دیتا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو ہر سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روایتی طور پر نیویارک کا دورہ کرتے ہیں، جس کے باعث ان کے ممکنہ دورے پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں آئی سی سی کو ”فرضی عدالت“ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹ کو بے بنیاد قرار دیا۔

اسرائیلی بیان میں کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ ممدانی اپنی غلطیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہودی ریاست کے رہنما اور مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت کے سربراہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت 2002 میں قائم کی گئی تھی اور اسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل اس عدالت کے رکن ممالک میں شامل نہیں ہیں۔

ظہران ممدانی نے رواں برس جنوری میں نیویارک کے میئر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بھی کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ پولیس کو انہیں گرفتار کرنے کی ہدایت دیں گے۔

گزشتہ سال نومبر میں انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد ظہران ممدانی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک غیر متوقع طور پر خوشگوار ملاقات بھی ہوئی تھی، حالانکہ اس سے قبل دونوں رہنما ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتے رہے تھے۔

Read Comments