نئی دہلی: پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود جین زی مودی حکومت کے خلاف ڈٹ گئے

ہزاروں طلبہ دوبارہ سڑکوں پر، تعلیمی اصلاحات اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ برقرار
اپ ڈیٹ 21 جولائ 2026 06:24pm

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کے سخت کریک ڈاؤن، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے باوجود نوجوان مظاہرین ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے۔ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر جاری احتجاج اب مودی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

نئی دہلی میں پیر کو ہونے والے پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود منگل کو ہزاروں طلبہ اور نوجوان دوبارہ احتجاجی مقام جنتر منتر پر جمع ہو گئے اور مودی حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے ان کی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

پیر کے روز پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر ہزاروں طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، تاہم پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ جھڑپوں میں ایک سو سے زائد طلبہ زخمی ہوئے جب کہ درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق احتجاج میں شریک 18 سالہ طالب علم انشول دیو نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ ایسے برتاؤ کر رہی ہے جیسے وہ دہشت گرد یا مجرم ہوں۔ ان کے بقول یہ ان کا اپنا ملک ہے اور وہ اسے نفرت اور جبر کی سیاست سے واپس لینے نکلے ہیں۔

احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے رات گئے جنتر منتر پہنچ کر زخمی مظاہرین سے خطاب کیا اور کہا کہ دہلی پولیس نے نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے بے رحمانہ طاقت استعمال کی، مگر تحریک ختم نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سمجھا تھا کہ تشدد کے ذریعے احتجاج ختم ہو جائے گا، لیکن یہ صرف پہلا مارچ تھا، آئندہ بھی احتجاج جاری رہے گا اور جب تک وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہیں ہوتے، نوجوان پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پولیس کارروائی کے دوران احتجاجی مقام پر قائم عارضی اسٹیج، خیمے اور طلبہ کیمپ بھی مسمار کر دیے گئے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے پرامن دھرنے کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی۔

تحریک کو مزید تقویت اس وقت ملی جب معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگ چک کو احتجاجی مقام سے ہٹا کر سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وانگ چک کے اہل خانہ اور سی جے پی کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر محدود رکھا گیا ہے، جب کہ دہلی ہائی کورٹ نے فوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔

وانگ چک نے پہلے اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی تاکہ پارلیمنٹ مارچ میں شریک ہو سکیں، تاہم طلبہ پر تشدد کے بعد انہوں نے دوبارہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا۔

احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران داخلہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچوں کے لیک ہونے اور نتائج میں غلطیوں نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ ان کے مطابق اس بحران کے باعث بیس سے زائد طلبہ نے خودکشی بھی کی، جس نے نوجوان نسل میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومت تعلیمی نظام کی اصلاح کے بجائے احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد، پتھراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔

وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے کی اپیل کی، تاہم سی جے پی رہنماؤں نے حکومت سے ہونے والی ملاقات کو ’’وقت کا ضیاع‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے نام پر انہیں کئی گھنٹے انتظار کرایا اور پھر صرف چند منٹ کی رسمی ملاقات کی، جس میں مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

کاکروچ جنتا پارٹی باقاعدہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں، لیکن نوجوانوں کی یہ تحریک مودی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

معروف مصنف اور نریندر مودی کی سوانح لکھنے والے نیلانجن مکھوپادھیائے کے مطابق وزیرِ اعظم مودی کا روایتی طرزِ عمل یہی رہا ہے کہ وہ احتجاجی تحریکوں کے سامنے فوری رعایت دینے کے بجائے سخت حکومتی ردعمل کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کے مطابق نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی اور حکومت کے خلاف غصہ مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

تحریک کو اپوزیشن جماعتوں، کسان تنظیموں، سماجی کارکنوں اور متعدد معروف شخصیات کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر نوجوان نسل مسلسل احتجاج کے حق میں مہم چلا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ابھرنے والی طلبہ تحریک کو صرف ایک مقامی احتجاج نہیں بل کہ جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کی نئی سیاسی لہر کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں خطے کے مختلف ممالک میں نوجوانوں نے روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے بڑی عوامی تحریکوں کی قیادت کی ہے۔

سنہ 2022 میں سری لنکا کے شدید معاشی بحران کے دوران عوامی احتجاج نے اس وقت کے صدر گوٹابایا راجاپاکسے کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ بنگلہ دیش میں 2024 کے طلبہ احتجاج نے سیاسی منظرنامے کو یک سر بدل دیا اور طویل عرصے سے برسراقتدار حکومت شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔

اسی طرح نیپال میں بھی گزشتہ برس نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے حکومت پر دباؤ بڑھایا اور سیاسی تبدیلی کی نئی بحث کو جنم دیا اور وزیرِ اعظم کو استعفی دینا پڑا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں جاری طلبہ تحریک اسی بدلتے ہوئے رجحان کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جہاں ڈیجیٹل دور کی نئی نسل روایتی سیاسی انداز سے ہٹ کر اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل رہی ہے۔

Read Comments