نئی دہلی میں طلبا پر تشدد کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

یہ سیاسی ہلچل ایک ایسی نوجوان تحریک کا نتیجہ ہے جو کاکروچ جنتا پارٹی کی چھتری تلے طلبا کی صورت میں سڑکوں پر نکل آئی ہے۔
شائع 22 جولائ 2026 09:20am

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام اور طلبا پر پولیس تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ اس مظاہرے کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو گرفتار کر لیا اور کچھ دیر بعد رہا کردیا۔ کانگریسی رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ سیاسی ہلچل ایک ایسی نوجوان تحریک کا نتیجہ ہے جو کاکروچ جنتا پارٹی کی چھتری تلے طلبا کی صورت میں سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور طلبا ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے میدان میں اترے ہوئے ہیں۔

مودی سرکار کی جانب سے ڈنڈے برسائے جانے، پولیس کریک ڈاؤن، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے باوجود یہ احتجاج تھمنے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ”مارو جتنا مارنا ہے، لیکن ہم نے نہیں ہارنا ہے“۔ پرجوش نوجوانوں کی یہ تحریک مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ پرانے تعلیمی نظام کو نامنظور کرتے ہوئے مودی کے نظام سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ نئی اور غیر روایتی نوجوان تحریک جو کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے جانی جا رہی ہے، اصل میں موبائل فون اور ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر اب سڑکوں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ڈیجیٹل دور کی وہ نسل ہے جو مصلحت پسندی پر یقین نہیں رکھتی اور اپنے حقوق کے لیے کھل کر آواز اٹھاتی ہے۔

روایتی نظام سے اکتاہٹ کی یہ لہر جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی بڑی سیاسی تبدیلیاں لا چکی ہے۔ اس سے قبل سری لنکا میں 2022 کے معاشی بحران کے دوران عوامی تحریک نے راجا پاکسے خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا، بنگلہ دیش میں 2024 کے طلبا احتجاج نے شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا تختہ الٹ دیا، جبکہ نیپال میں ستمبر 2025 میں ڈیجیٹل بغاوت سڑکوں پر آنے کے بعد محض 48 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو استعفا دینا پڑا تھا۔

اب بھارت میں بھی نوجوانوں کا یہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

Read Comments