آبنائے ہرمز میں ایران کے ہر حملے کے جواب میں ایک پل یا بجلی گھر تباہ ہوگا: صدر ٹرمپ

ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی تجارتی جہاز پر حملہ کیا تو امریکہ فوجی کارروائی کرے گا: صدر ٹرمپ
اپ ڈیٹ 22 جولائ 2026 08:02pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی تجارتی جہاز پر حملے کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں ملے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران نے اب آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار کے ذریعے حملہ کیا تو امریکا اس کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب تہران کے اطراف یا دارالحکومت میں موجود بجلی گھر بھی امریکی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

مفاہمتی یادداشت کی معطلی کے اعلان کے بعد امریکی فوج کی جانب سے مسلسل گیارہ روز سے ایران پر حملے جاری ہیں۔ جنگ کے دوسرے مرحلے میں امریکا نے ایران کے جنوبی ساحل اور جزائر کو خصوصی طور پر نشانہ پر رکھا ہوا ہے جب کہ ایران کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 4 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایران جنگ میں ہلاک چاروں امریکی فوجیوں کی میتیں آج ریاست ڈیلاویئر پہنچ رہی ہیں، جہاں ڈوور ایئربیس میں انکے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔

تقریب میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایران جنگ میں مرنے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے جارہے ہیں اور بطورِ صدر یہ میرے لیے سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ ہی ہونے چاہئیں اور نہ کبھی ہوں گے۔‘

یہ تقریب ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران جنگ کے معاملے پر امریکی انتظامیہ پر اپنے ہی ملک میں تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جنگ پر اب تک امریکا کے ساڑھے 37 ارب ڈالرز خرچ ہوچکے ہیں جب کہ مجموعی طور پر 18 امریکی فوجی ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’کولانگ کوہ‘ پر کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہورہی ہے، واشنگٹن کی جانب سے اس پر حملے کی دھمکیاں دراصل جارحیت، تباہی اور تخریب کاری کے لیے ایک من گھڑت جواز ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار بھی ہیں، اس معاملے پر کہاں ہیں۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایرانی عوام امریکا کی جانب سے کسی بھی اقدام کا پوری قوت سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Read Comments