آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی، تیل کی قیمتیں 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ایران پر 12ویں رات بھی حملوں اور امن مذاکرات کے امکانات کم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو اہم بحری گزرگاہوں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بڑھتے خطرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
بدھ کے روز برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4.9 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی دوران امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 5.1 فیصد بڑھ کر 89 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
بعد ازاں کاروبار کے اختتام تک قیمتوں میں کچھ کمی آئی، تاہم برینٹ خام تیل 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ 94.07 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 2.9 فیصد اضافے کے بعد 86.83 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
برینٹ خام تیل کو عالمی منڈی میں قیمتوں کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس کی قیمت میں اضافے کا اثر امریکا سمیت کئی ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت مزید بڑھ کر 4.06 ڈالر فی گیلن ہو گئی، جو ایک رات میں 4 سینٹ کا اضافہ ہے۔
تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی حکومتی بانڈز کی پیداوار (ٹریژری ییلڈ) مئی کے بعد بلند ترین سطح 4.65 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 30 سالہ ہاؤسنگ قرض پر اوسط شرح سود بھی بڑھ کر 6.75 فیصد ہو گئی، جو رواں سال کی بلند ترین سطح کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف اس ماہ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سال کے آغاز سے اب تک یہ 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ اس اضافے نے جون کے وسط میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آنے والی قیمتوں میں کمی کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اس مجوزہ معاہدے کو ختم قرار دیا تھا۔ بدھ کے روز انہوں نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا اگر ایران کی اسلامی جمہوریہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرے گی تو امریکا تہران سمیت ایران میں ایک پل یا بجلی گھر کو بمباری کر کے تباہ کر دے گا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن اس وقت وہ اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
مارکو روبیو نے ایران پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا ایران بین الاقوامی سمندری راستے میں عالمی جہاز رانی کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ طے کرنا چاہتا ہے کہ کون سا جہاز گزر سکتا ہے اور کون سا نہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے، ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
ادھر ایران کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس وقت کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ ممکن ہے۔