اینٹی بائیوٹکس کو طاقت دینے والا نیا فارمولا دریافت
دنیا بھر میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم روز بروز زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں اور عام ادویات جنہیں اینٹی بائیوٹک کہا جاتا ہے، اب ان پر اثر نہیں کر رہیں۔ ان جراثیموں کو سپربگز کا نام دیا جاتا ہے جو دواؤں کے اثر کو زائل کرنے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہیں۔ اس خطرناک مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک نیا اور آسان طریقہ تلاش کیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد ایسے انفیکشنز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کا علاج پہلے عام اینٹی بائیوٹکس سے ممکن تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام بیماریوں بلکہ سرجری، کینسر کے علاج اور ہسپتالوں میں کیے جانے والے کئی طبی مراحل کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
اب سائنسدانوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک امید افزا پیش رفت کی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، مکمل طور پر نئی اینٹی بائیوٹک تیار کرنے کے بجائے موجودہ ادویات کو دوبارہ طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ”اینٹی بائیوٹک ایڈجوونٹس“ نامی خاص مرکبات استعمال کیے جا رہے ہیں، جو خود بیکٹیریا کو نہیں مارتے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کو اپنا کام مؤثر انداز میں کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام کیمیا کے ایسے عمل کو ظاہر کرتا ہے جو دواؤں کی دریافت کو تیز بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور قابلِ اعتماد کیمیائی تجربات کی مدد سے ہم نئے اور موثر مالیکیول بنا سکتے ہیں۔
سائنسدانوں نے ”ڈائیورسٹی اورینٹڈ کلکنگ“ (ڈی او ایس) نامی ایک جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے 150 سے زائد کیمیائی مرکبات پر مشتمل ایک لائبریری تیار کی ہے، جس سے نہ صرف اینٹی بائیوٹک مزاحمت بلکہ کینسر سے متعلق تحقیقات میں بھی مدد مل رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ مزید کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں تپ دق (ٹی بی) سمیت دیگر خطرناک اور دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کے علاج کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری اور غلط استعمال نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ وہ عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹکس صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائیں اور دوا کا مکمل کورس کیا جائے تاکہ بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے امکانات کم ہوں اور جراثیم دواؤں کے خلاف خود کو طاقتور نہ بنا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل کی بڑی طبی کامیابیاں ہمیشہ ہسپتالوں میں نہیں بلکہ لیبارٹریوں میں جنم لیتی ہیں، جہاں سائنسدان نئی دریافتوں کے ذریعے انسانیت کے لیے امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔