امریکا ایران کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی تیل کی قیمتیں گر گئیں

سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل دوبارہ معمول پر آ سکتی ہے
شائع 27 جولائ 2026 09:03am

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد ہفتے اور اتوار کو حملے روک دیے جانے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 4.89 ڈالر یا 5.05 فیصد کم ہو کر 91.89 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت کچھ دیر کے لیے 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے چلی گئی۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 4.67 ڈالر یا 5.23 فیصد کمی کے بعد 84.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

دونوں معیار کے خام تیل کی قیمتیں تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جبکہ اس سے قبل مسلسل تین ہفتوں تک ان میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل دوبارہ معمول پر آ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو امریکی نیوز چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کے لیے مزید وقت دینے کی غرض سے امریکی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئی جی مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اب یہ امید بڑھ رہی ہے کہ شاید ایک حقیقی سفارتی راستہ کھل رہا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق مزید وضاحت کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی طرف واپسی ایک مضبوط آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

اگرچہ حملے عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم شپنگ کمپنی کلیپر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے اور اتوار کے دوران روزانہ 10 سے بھی کم تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی، جس کی وجہ سے برطانوی کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

اس تنازع نے بحیرہ احمر تک بھی اثر ڈالا، جہاں باب المندب کی گزرگاہ متاثر ہونے سے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی ایشیا کو تیل کی برآمدات میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔

دوسری جانب بحیرہ احمر میں باب المندب کی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت بھی اتوار کو کم رہی، کیونکہ یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی تیل تنصیبات پر حملے کیے۔ تاہم ایک تیسرا چینی سپر ٹینکر باب المندب کے راستے وہاں سے گزرنے میں کامیاب رہا۔

Read Comments