حکومت سے عوام تک پہنچنے والے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں کتنا فرق ہے؟

عوام تک پہنچتے پہنچتے پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کیسے ہوجاتا ہے؟
شائع 27 جولائ 2026 02:43pm

عالمی مارکیٹ سے ایک عام پاکستانی صارف تک پہنچنے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ایک بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ پورٹ پر تیل بردار جہاز جب پہنچتے ہیں تو پیٹرول کی اصل قیمت تقریباً 195 سے 196 روپے فی لیٹر ہوتی ہے، لیکن جب یہی پیٹرول پمپ تک پہنچتا ہے تو اس کی قیمت 335 سے 350 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے، یعنی قیمت میں تقریباً 150 روپے تک کا فرق آجاتا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کو یہ تیل کتنے کا پڑتا ہے اور عوام تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت تبدیل کیوں ہوجاتی ہے؟

پیٹرول کی قیمت کے تعین کا سلسلہ عالمی منڈی سے شروع ہوتا ہے۔ جب ایک بڑا آئل ٹینکر پاکستان پہنچتا ہے تو عالمی مارکیٹ کی قیمت، ٹینکر کا کرایہ اور دیگر ابتدائی اخراجات شامل کرنے کے بعد پیٹرول کی قیمت فی الحال تقریباً 195 سے 196 روپے فی لیٹر کے قریب بنتی ہے۔ تاہم یہ قیمت مستقل نہیں رہتی کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت، فریٹ چارجز اور دیگر اخراجات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

لیکن بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ درآمدی تیل کو ملک میں لانے کے لیے کسٹمز ڈیوٹی، مختلف درآمدی ڈیوٹیز، بندرگاہ کے اخراجات اور دیگر چارجز شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بندرگاہ اور درآمدی مرحلے پر تقریباً 17 سے 18 روپے فی لیٹر تک مختلف چارجز شامل ہو سکتے ہیں۔ اس مرحلے پر حکومت کو کسٹمز اور دیگر ڈیوٹیز کی صورت میں آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ بندرگاہ پر ادا ہونے والی پوری رقم حکومت کا خالص منافع نہیں ہوتی۔ کچھ رقم درآمدی ڈیوٹی، کچھ بندرگاہ کے اخراجات اور کچھ دیگر لاجسٹک یا متعلقہ چارجز کی مد میں شامل ہوتی ہے۔

اس کے بعد پیٹرول آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نظام میں داخل ہوتا ہے۔ پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد، ذخیرہ، ترسیل اور ملک بھر میں سپلائی کا انتظام کرتی ہیں۔ اس پورے عمل کے عوض انہیں ایک مقررہ یا ریگولیٹڈ مارجن ملتا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن مختلف اوقات میں تبدیل ہوتا رہا ہے اور بعض اوقات یہ تقریباً 16.50 روپے فی لیٹر تک رہا ہے۔ یہ مارجن حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرح اور متعلقہ قیمتوں کے فارمولے کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد پیٹرول پمپ کا مرحلہ آتا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز یعنی پیٹرول پمپ مالکان کو بھی فی لیٹر ایک مقررہ مارجن دیا جاتا ہے۔ ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے لیے حکومت اور ڈیلرز کے درمیان مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں۔ ایک موقع پر ڈیلرز کے مارجن کو تقریباً 9.5 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی بات سامنے آئی، جس کے بعد ہڑتال اور مذاکرات کا معاملہ بھی ہوا۔

یعنی عوام جو قیمت ادا کرتی ہے، اس میں صرف پیٹرول کی اصل قیمت شامل نہیں ہوتی بلکہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن اور ڈیلر کا مارجن بھی شامل ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں اس حصے کی طرف جس میں حکومت کو سب سے زیادہ آمدنی حاصل ہوتی ہے: ٹیکس اور لیویز۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں مقامی ٹیکسز اور مختلف متعلقہ چارجز کا مجموعی حصہ تقریباً 108.67 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ یہ رقم مختلف کیٹیگریز پر مشتمل ہوتی ہے، جنہیں الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

سب سے بڑا حصہ پٹرولیم لیوی کا ہے۔ پیٹرول پر پٹرولیم لیوی تقریباً 80 روپے فی لیٹر تک ہے۔ یہ رقم براہ راست حکومتی خزانے میں جاتی ہے اور حکومت اسے اپنے اخراجات اور مالی ضروریات کے لیے استعمال کرتی ہے۔

پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ حکومت کو اپنے مختلف اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدنی درکار ہوتی ہے، جبکہ پاکستان کا درآمدی بل بھی بڑی حد تک پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد سے متاثر ہوتا ہے۔ ملک کو تیل درآمد کرنے کے لیے بڑی مقدار میں زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت ملکی معیشت پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔

اس کے علاوہ پیٹرول پر کلائمیٹ سپورٹ یا کلائمیٹ چینج لیوی کی مد میں 5 روپے فی لیٹر شامل کیے جاتے ہیں۔ اس رقم کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق حکومتی اقدامات کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔

اسی طرح قیمت میں فریٹ یا نقل و حمل سے متعلق چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کے فراہم کردہ اعداد و شمار میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 7.16 روپے فی لیٹر فریٹ چارجز کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ رقم پیٹرولیم مصنوعات کو مختلف مقامات تک منتقل کرنے کے اخراجات سے متعلق ہوتی ہے۔

اس کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن اور پیٹرولیم ڈیلر کا مارجن شامل ہوتا ہے۔ پیٹرول کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن تقریباً 7.87 روپے اور ڈیلر مارجن تقریباً 8.64 روپے فی لیٹر ہے۔ یہ شرحیں قیمتوں کے نوٹیفکیشن اور حکومتی فیصلوں کے مطابق تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔

اب اگر ڈیزل کی بات کی جائے تو اس کی قیمت کا ڈھانچہ بھی تقریباً اسی طرح ہے، لیکن ڈیزل کی بنیادی قیمت اور مختلف چارجز الگ ہو سکتے ہیں۔

ڈیزل پر مقامی ٹیکسز اور مختلف مارجنز کا مجموعی حصہ تقریباً 96.86 روپے فی لیٹر بتایا گیا ہے۔

ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی تقریباً 70.82 روپے فی لیٹر ہے۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ لیوی کی مد میں 5 روپے فی لیٹر شامل کیے جاتے ہیں۔

ڈیزل کی قیمت میں فریٹ چارجز بھی شامل ہوتے ہیں، جو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4.53 روپے فی لیٹر ہیں۔ اسی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن تقریباً 7.87 روپے اور ڈیلر مارجن تقریباً 8.64 روپے فی لیٹر بتایا گیا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی، درآمدی لاگت، شرح تبادلہ، فریٹ، حکومتی لیویز اور دیگر عوامل کے باعث تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے کسی ایک دن کا تفصیلی حساب دوسرے دن بھی بالکل اسی طرح لاگو نہیں ہوتا۔

Read Comments