آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کیا ہیں؟

20 جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کتنی بار مہنگا اور کتنا سستا ہوا؟ تمام تفصیلات جانئے
شائع 29 جولائ 2026 08:03am

پاکستان میں آج پیٹرول 335 روپے 81 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں بالترتیب ایک روپے 63 پیسے اور ایک روپے 55 پیسے کا اضافہ کیا ہے۔

محض 13 دنوں کی مختصر مدت کے دوران حکومت پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 25 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 65 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کر چکی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ تبدیلی کے اس نئے نظام کا آغاز 17 جولائی کو ہوا تھا جب وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ”پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی“۔ 17 جولائی کو کیے جانے والے پہلے ہی اعلان میں پیٹرول 5 روپے 44 پیسے جبکہ ڈیزل 31 روپے 05 پیسے مہنگا کر دیا گیا تھا۔

اگر 20 جولائی سے اب تک پیٹرول کی قیمتوں کے رد و بدل اور اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا جائے تو پیٹرول کی قیمت میں صرف 2 بار معمولی کمی کی گئی جبکہ 5 بار اضافہ کیا گیا۔

20 جولائی کو حکومت نے عوام کو معمولی راحت دیتے ہوئے پیٹرول میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی۔ اس کے بعد 21 جولائی سے 24 جولائی کے دوران مسلسل چار روز پیٹرول کی قیمت بڑھائی گئی، جس میں 21 جولائی کو 4 روپے 93 پیسے، 22 جولائی کو 6 روپے 39 پیسے، 23 جولائی کو 4 روپے 40 پیسے اور 24 جولائی کو 3 روپے 66 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

اس کے بعد 25 جولائی کو قیمتیں برقرار رکھی گئیں، پھر 27 جولائی کو دوسری بار پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کی کمی لائی گئی۔ تاہم 29 جولائی کو حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول ایک روپے 63 پیسے مہنگا کر دیا۔

دوسری جانب اگر ڈیزل کی قیمتوں کی بات کی جائے تو 20 جولائی سے لے کر اب تک ڈیزل کی قیمت میں ایک بار بھی کمی نہیں کی گئی بلکہ مسلسل 6 بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

20 جولائی کو جہاں پیٹرول سستا ہوا تھا وہیں ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے کا اضافہ ہوا۔ اس کے بعد 21 جولائی کو 7 روپے 15 پیسے، 22 جولائی کو 7 روپے 83 پیسے، 23 جولائی کو 3 روپے 62 پیسے اور 24 جولائی کو 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔

25 جولائی کے ناغے کے بعد 27 جولائی کو ڈیزل مزید 3 روپے 37 پیسے مہنگا ہوا اور آخر میں 29 جولائی کو اس میں ایک روپے 55 پیسے کا مزید اضافہ کر دیا گیا۔

حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگی کشیدگی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے اور امپورٹ کاسٹ یعنی درآمدی لاگت میں ہونے والے اس اضافے کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر عوام کو قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read Comments