برسات کے موسم میں وائرل بخار سے کیسے بچیں؟

بروقت احتیاط اور علامات پر توجہ دے کر وائرل بخار کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
شائع 29 جولائ 2026 10:12am

گرمی کے بعد جیسے ہی بارش کا موسم شروع ہوتا ہے، مختلف بیماریاں بھی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیتی ہیں۔ اس موسم میں زیادہ تر لوگ وائرل بخار کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بارش اور بدلتے موسم کے باعث لوگوں کو پہلے گلے میں خرابی اور زکام ہوتا ہے اور اس کے بعد بخار پانچ سے چھ دن کے لیے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

اس بخار کی وجہ سے جسم میں شدید کمزوری ہو جاتی ہے اور سر، سینے اور گلے میں درد رہتا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کو اس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

کچھ بنیادی اور آسان باتوں پر عمل کر کے خود کو اس برسات کے موسم میں وائرل بخار سے آسانی سے محفوظ رکھاجا سکتا ہے۔

ہاتھوں کی صفائی اور سینیٹائزر کا استعمال

برسات کے دنوں میں جراثیم اور وائرس گھر کے دروازوں کے ہینڈل، موبائل فون، ریلنگ اور دیگر جگہوں پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔

باہر سے واپس گھر آنے کے بعد، کھانا کھانے سے پہلے اور واش روم استعمال کرنے کے بعد صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ ضرور دھوئیں۔ اگر پانی موجود نہ ہو تو الکحل سینیٹائزر کا استعمال کریں۔ بغیر ہاتھ دھوئے آنکھ، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کریں۔

صحت بخش غذا اور قوتِ مدافعت

اس موسم میں کھانا پینا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط قوتِ مدافعت وائرل بخار سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے لیے روزمرہ خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، دودھ، دہی، انڈے، ہلدی، ادرک اور لہسن شامل کریں۔ وٹامن سی اور زنک والی چیزیں کھائیں اور زیادہ تلی ہوئی یا باہر کی گندی چیزیں کھانے سے بچیں۔

ابلا ہوا صاف پانی اور پانی کی مقدار

بارش کے موسم میں پانی سے پھیلنے والے انفیکشنز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی پینا چاہیے۔ باہر ملنے والے کھلے مشروبات اور برف کے استعمال سے بچیں اور دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور جسم انفیکشن سے محفوظ رہ سکے۔

بارش میں بھیگنے کے بعد احتیاط

اگر آپ بارش میں بھیگ جائیں تو فوری طور پر گیلے کپڑے بدل لیں اور بال اچھی طرح خشک کرلیں۔ گیلے کپڑوں میں زیادہ دیر رہنے سے جسم کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو نیم گرم پانی سے نہا لیں۔

مکمل نیند اور جسمانی آرام

صحت کے ماہرین کے مطابق مناسب نیند بھی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسم کی طاقت کم ہو جاتی ہے جس سے نزلہ زکام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے سوئیں، زیادہ پریشانی نہ لیں اور ہلکی پھلکی ورزش یا یوگا کریں۔ چہل قدمی کو معمول بنائیں۔

بھیڑ بھاڑ اور بیمار افراد سے فاصلہ

وائرل بخار ایک شخص سے دوسرے شخص میں کھانسی، چھینک یا قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بیمار افراد اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے تھوڑا فاصلہ رکھیں۔ اگر ضرورت پڑے تو ماسک پہنیں۔ کسی بیمار شخص کا تولیا، برتن یا پانی کی بوتل استعمال نہ کریں اور کھانستے یا چھینکتے وقت اپنے منہ اور ناک کو رومال یا کہنی سے ڈھانپیں۔

ابتدائی علامات اور ادویات میں احتیاط

اگر آپ کو بخار، گلے میں خرابی، سر درد، ناک بہنا یا جسم میں درد محسوس ہو تو شروعاتی علامات کو نظر انداز نہ کریں۔ فوری طور پر آرام کریں اور نیم گرم پانی پیئیں اور اگر بخار تیز ہو جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بغیر طبی مشورے کے اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر بخار 102 ڈگری فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ ہو، تین دن سے زائد برقرار رہے، سانس لینے میں دشواری ہو، بار بار قے آ رہی ہو یا مریض کو بے ہوشی اور شدید کمزوری محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

بارشوں کا موسم اگرچہ خوشگوار سمجھا جاتا ہے، لیکن معمولی احتیاط نہ کرنے کی صورت میں یہ کئی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور علامات پر توجہ دے کر وائرل بخار کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Read Comments