کون سی دوائیوں کے ساتھ ملٹی وٹامنز لینا خطرناک ہے؟

وٹامنز اور ادویات کا غلط امتزاج ایک نئی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
شائع 30 جولائ 2026 10:23am

آج کل بہت سے لوگ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ مختلف قسم کی وٹامن کی گولیاں، آئرن، کیلشیم اور زنک ایک ساتھ کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک اچھی عادت لگتی ہے، لیکن ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے مختلف وٹامنز کو ایک ساتھ ملانا صحت کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحیح وٹامن صحیح وقت پر نہ لی جائے تو یہ جسم کو فائدہ پہنچانے کے بجائے دواؤں کے اثر کو ختم کر سکتی ہے یا دیگر بیماریاں پیدا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ روزانہ ناشتے کے ساتھ ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، آئرن، کیلشیم، زنک اور بالوں یا جلد کے لیے مختلف سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سب صحت بہتر بنانے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن ان کے ایک ساتھ استعمال سے بعض وٹامنز اور معدنیات ایک دوسرے کے اثرات کم کر سکتے ہیں یا ادویات کے ساتھ ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔

آر اے کے ہسپتال کی انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر جسپریت کور کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر وٹامنز کو معمولی چیز سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بغیر کسی نسخے کے مل جاتی ہیں، لیکن یہ دوائیوں کی طرح ہی طاقتور ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر وٹامنز کا استعمال اکثر اصل بیماری یا مسئلے کو چھپا دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کئی دوائیاں اور وٹامنز ایک ساتھ کھائی جاتی ہیں تو وہ جسم کے اندر دیگر ضروری غذائیت کی جذب ہونے کی صلاحیت کو روک دیتی ہیں، جس سے شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹرز نے وضاحت کی ہے کہ آئرن اور کیلشیم کی گولیاں ایک ساتھ کھانے سے آئرن صحیح طریقے سے جسم میں جذب نہیں ہوتا، جس سے خون کی کمی کا علاج متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تھائیرائیڈ کی دوا لیوو تھائروکسین اور آئرن کو ایک ساتھ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ اس سے تھائیرائیڈ کی بیماری پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹروں نے وٹامن کے اور خون پتلا کرنے والی دوا وارفرین کے امتزاج پر بھی خبردار کیا ہے کیونکہ اس سے جسم میں خون کے لوتھڑے بننے یا خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر جسپریت کور کا کہنا ہے، ”یہ دونوں ایک دوسرے کے الٹ کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے خون جمنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔“

وٹامن ای کے حوالے سے بھی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہا ہو تو وٹامن ای کا زیادہ استعمال خون بہنے کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

اسی طرح زنک اور کاپر جیسے معدنیات بھی ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں رہتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر زنک زیادہ مقدار میں لیا جائے تو جسم میں کاپر کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق والیو ہیلتھ کے ماہر جیمی رچرڈز کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم ایک توازن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی ایک وٹامن یا منرل کی ضرورت سے زیادہ مقدار لیتے ہیں تو وہ جسم میں موجود دیگر ضروری وٹامنز کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وٹامن اے، ڈی، ای اور کے جسم کے اندر جمع ہوتے رہتے ہیں اور اگر یہ زیادہ مقدار میں جمع ہو جائیں تو گردوں اور جگر پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

اکثر لوگ تھکاوٹ محسوس ہونے پر خود ہی آئرن یا وٹامن بی12 کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ کی وجہ ہمیشہ وٹامن کی کمی نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ نیند کی کمی یا کوئی اور بیماری بھی ہو سکتی ہے۔ خود سے وٹامن کھانے سے اصل بیماری کا بروقت پتہ نہیں چل پاتا۔

جیمی رچرڈز نے اس حوالے سے کہا، ”کبھی کبھی لوگ ایک مسئلے کے حل کے لیے سپلیمنٹ لینا شروع کرتے ہیں، لیکن بعد میں اسی سپلیمنٹ کی زیادتی ایک نئی بیماری کا سبب بن جاتی ہے۔“

ماہرین کا مشورہ ہے کہ خود سے مختلف دوائیاں اور وٹامنز ملا کر کھانے کے بجائے ہمیشہ پہلے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور ٹیسٹ کی روشنی میں صرف وہی وٹامن لیں جس کی جسم کو واقعی ضرورت ہو۔ کیونکہ صحت مند رہنے کے لیے صرف وٹامنز ہی نہیں بلکہ ان کا درست اور متوازن استعمال بھی ضروری ہے۔

Read Comments