گردوں کو ناکارہ بنانے والے 5 عام مشروبات

گردوں، ذیابیطس یا بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنے روزمرہ مشروبات کے انتخاب میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔
اپ ڈیٹ 30 جولائ 2026 03:08pm

گردے انسانی جسم کے خاموش محافظ ہیں، جو دن رات خون کو صاف کرنے، جسم سے فاضل مادے خارج کرنے اور پانی و نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ تاہم جدید طرزِ زندگی میں کثرت سے استعمال کیے جانے والے چند عام مشروبات انسان کے گردوں کو خاموشی سے شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان کا حد سے زیادہ استعمال گردوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں تھکن، ٹانگوں میں سوجن، پیشاب کی مقدار میں تبدیلی اور بلڈ پریشر میں اضافہ شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے روزمرہ استعمال ہونے والے مشروبات کے انتخاب میں احتیاط کو صحت مند زندگی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

معتبر سائنسی جائزوں اور بین الاقوامی طبی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے مطابق، ہمارے روزمرہ کے ڈرنکس پینے کے انتخاب گردے کی فلٹریشن کی صلاحیت اور جسمانی توازن پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

برطانوی اخبار ’دی مرر‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ماہرینِ صحت اور نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن نے ان 5 مشروبات کی نشاندہی کی ہے جو انسان کو گردوں کے خطرناک امراض میں مبتلا کر رہے ہیں۔

کاربونیٹڈ اور سوفٹ ڈرنکس

کاربونیٹڈ یا سافٹ ڈرنکس کو گردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ مشروبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ میٹھی اور گیس والی بوتلوں میں موجود زیادہ شکر، فرکٹوز اور کیمیکل اجزا نہ صرف موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق جو افراد روزانہ سافٹ ڈرنکس پینے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں گردوں کی دائمی بیماریوں کے امکانات نسبتاً زیادہ دیکھے گئے ہیں۔

انرجی ڈرنکس

فوری توانائی اور چستی کے لیے استعمال کیے جانے والے انرجی ڈرنکس پروسیسڈ غذاؤں کی زمرے میں آتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انرجی ڈرنکس وقتی طور پر جسم کو چست اور متحرک محسوس کراتی ہیں، لیکن ان میں موجود کیفین، شکر اور مصنوعی اجزا گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں ان مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب انہیں روزانہ کی بنیاد پر استعمال کیا جائے۔

الکحل

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ الکحل کا زیادہ استعمال نہ صرف جگر بلکہ گردوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ الکحل جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہے، جس سے گردوں کو خون صاف کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ مسلسل ڈی ہائیڈریشن گردوں کے افعال کو کمزور کر سکتی ہے اور طویل مدت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

اسپورٹس ڈرنکس

اگرچہ اسپورٹس ڈرنکس کو صحت بخش اور الیکٹرولائٹس سے بھرپور بتا کر بیچا جاتا ہے، لیکن عام انسان کے لیے ان کا روزانہ کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ہے۔ ان میں سوڈیم، کیلشیم اور مصنوعی رنگوں کی اتنی بھاری مقدار ہوتی ہے کہ سخت محنت یا پسینہ نہ بہانے والے عام افراد کے گردے ان اضافی نمکیات کو فلٹر کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور ان کا فلٹریشن سسٹم متاثر ہو جاتا ہے۔

پھلوں کے رس

بظاہر صحت بخش نظر آنے والے پھلوں کے جوسز گردوں کے لیے ایک دھوکا ثابت ہو سکتے ہیں۔ بازار میں ملنے والے 100 فیصد خالص جوسز میں بھی پوٹاشیم اور شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک خوراک میں 200 ملی گرام سے زائد پوٹاشیم ہوتا ہے جسے چھاننا گردے کے مریضوں کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار کے جوسز سے بہتر ہے کہ بغیر چینی کے تازہ گھر کے بنے جوسز استعمال کیے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق’’جرنل آف رینل نیوٹریشن‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ پھلوں کے جوس کے حوالے سے ماہرین کی رائے مکمل طور پر یکساں نہیں ہے۔ اگرچہ بعض جوس غذائیت فراہم کرتے ہیں، لیکن مارکیٹ میں دستیاب کئی پیک شدہ جوسز میں اضافی چینی، مصنوعی ذائقے اور محفوظ رکھنے والے اجزا شامل ہوتے ہیں، جو مسلسل استعمال کی صورت میں گردوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صرف نقصان دہ مشروبات سے پرہیز ہی کافی نہیں، بلکہ پانی کا مناسب استعمال بھی بے حد ضروری ہے۔ تاہم پانی کی زیادتی بھی بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ پانی پینے سے جسم میں سوڈیم کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہو سکتی ہے، جسے ”ہائپوناٹریمیا“ کہا جاتا ہے، اور یہ ایک خطرناک طبی حالت ہے۔

گردوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیمیکلز، اضافی شکر اور مصنوعی الیکٹرولائٹس والے مشروبات سے پرہیز کرنا ہی سب سے بہترین علاج ہے۔

اگر کسی شخص کو پہلے سے گردوں، ذیابیطس یا بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہو تو اسے اپنے روزمرہ مشروبات کے انتخاب میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔

صحت کے ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ مسلسل تھکن، جسم میں سوجن یا پیشاب سے متعلق غیر معمولی علامات محسوس کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ گردوں کی بیماری کی بروقت تشخیص مستقبل میں بڑے مسائل سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Read Comments