پیٹرولیم شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے کا فیصلہ

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا ذمہ دار بنایا جائے: وزیر پیٹرولیم
شائع 30 جولائ 2026 09:31pm

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کے اجلاس میں شعبے کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کے لیے واضح اہداف پر مبنی جامع روڈ میپ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم کی قائم کردہ پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئل سیکٹر کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام اور شعبے میں اصلاحات سے متعلق مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کمیٹی کے اراکین نے روزانہ پپٹرولیم قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فارمولے کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئے پرائسنگ میکنزم سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آئل سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے واضح اہداف، ٹائم لائن اور سنگِ میل مقرر کیے جائیں تاکہ اصلاحات مرحلہ وار اور منظم انداز میں مکمل کی جا سکیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کا ذمہ دار بنایا جائے تاکہ ایندھن کی نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی، سپلائی اور فروخت کے پورے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف اور قابل نگرانی بنایا جا سکے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اوگرا کی ویب سائٹ پر روزانہ پیٹرولیم قیمتوں، پرائسنگ فارمولے اور متعلقہ ڈیٹا پر مشتمل ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جس سے صارفین، سرمایہ کاروں اور متعلقہ اداروں کو بروقت اور شفاف معلومات تک رسائی حاصل ہوگی۔

کمیٹی نے اسٹریٹجک پپٹرولیم ذخائر اور پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے قیام کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ اقدامات عالمی منڈی میں قیمتوں کے اچانک اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی اور اس کے مارکیٹ میں مسابقت، سرمایہ کاری اور مجموعی مارکیٹ ڈھانچے پر اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فریٹ مارجن پول کے نظام کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ اس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے ضروری اصلاحات کی جا سکیں۔

اجلاس کے دوران وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایف بی آر اور پیٹرولیم ڈویژن سے مشاورت کے بعد ونڈ فال ٹیکس سے متعلق تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔

اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ پپٹرولیم پرائسنگ کمیٹی ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات پر مزید غور جاری رکھے گی، جبکہ پیٹرولیم سیکٹر میں شفافیت، مسابقت، کارکردگی اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی روڈ میپ مرتب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد پیٹرولیم شعبے میں شفافیت، مسابقت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ کمیٹی وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور اب تک اس کے پانچ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔

Read Comments