حکومت نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں آج پھر بڑھادیں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کے تحت وفاقی حکومت نے آج ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد 31 جولائی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیکفیشن کے مطابق گزشتہ روز 75 پیسے سستا ہونے والا پیٹرول آج ایک روپے 9 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کردیا گیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 2 روپے 42 پیسے مزید اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل 31 جولائی کے لیے کیا گیا ہے جب کہ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے 24 گھنٹے کے لیے ہوگا۔
واضح رہے کہ حکومت پہلے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر ہر 15 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لے کر نئی قیمتوں کا اعلان کیا کرتی تھی تاہم امریکا ایران جنگ کے بعد عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث حکومت نے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اب روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرنا شروع کیا ہے، جمعرات کو ہونے والا اضافہ بھی اسی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
یومیہ تعین کے تحت پیٹرولیم قیمتیں کب بڑھیں اور کم ہوئیں؟
اس سے قبل 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔
بعد ازاں 17 جولائی کو حکومت نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اگلے 3 روز کے لیے اضافہ کیا تھا، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 05 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
20 جولائی کو وفاقی حکومت نے عوام کو معمولی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 360 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
پھر 21 جولائی کو حکومت نے پیٹرول 4 روپے 93 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
اس کے اگلے روز 22 جولائی کو بھی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔
23 جولائی کو بھی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے بڑھائے گئے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے مقرر ہوگئی تھی۔
اس کے بعد 24 جولائی کو بھی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا، اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی تھی تاہم 25 جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھی گئی تھیں۔
27 جولائی کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے پیٹرول ایک روپے سستا کیا تھا، اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 334 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا تھا، اس اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 386 روپے 83 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔
حکومت نے 28 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 63 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 335 روپے 81 پیسے اور ڈیزل 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گیا تھا۔
اس کے بعد گزشتہ روز 29 جولائی کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 75 پیسے کی معمولی کمی کے بعد 335 روپے 6 پیسے مقرر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 24 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا تھا، جس کی نئی قیمت 390 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔