غزہ بورڈ آف پیس نے حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کا معاہدہ کرلیا: صدر ٹرمپ

یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے: امریکی صدر
اپ ڈیٹ 31 جولائ 2026 10:12am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس سمیت تمام مسلح گروہوں کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ کر لیا ہے، جسے خطے میں دیرپا امن اور نئی سیاسی پیش رفت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جیسے ہی غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا عمل پایۂ تکمیل تک پہنچے گا، اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے واپس چلی جائیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ اس پر عمل درآمد مرحلہ وار، منظم اور طے شدہ طریقۂ کار کے تحت کیا جائے گا۔

امریکی صدر کا پیغام میں مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت ایک بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کی ذمہ داری سنبھالے گی، تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور منتقلی کا عمل پرامن انداز میں مکمل ہو۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ بورڈ آف پیس نے آج غزہ میں حماس سمیت تمام مسلح گروہوں سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ طے کیا ہے، جو ان کے بقول خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اس حوالے سے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی تصدیق کی کہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔

حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ثالث کردار ادا کریں، امید ہے ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو معاہدے کا پابند بنائیں گے۔

حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل کیسے کام کرے گا؟

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا اور بورڈ آف پیس کے حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک ابتدائی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے میں ہتھیار جمع کرانے کا عمل کئی مرحلوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے ایک فون کال کے دوران بتایا کہ پہلے مرحلے میں غزہ میں موجود حماس اپنی سرکاری نوعیت کے ہتھیار عبوری انتظامیہ کے حوالے کرے گی۔

اس کے بعد بھاری ہتھیاروں کو ختم کرنے کا عمل شروع ہوگا۔ حکام کے مطابق اس میں زیر زمین سرنگوں اور اسلحہ کے گوداموں کو بند کرنا بھی شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ان جنگجوؤں کو بھی اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی جو ان مقامات پر کام کر رہے ہیں۔

امریکی اور بورڈ آف پیس کے حکام نے کہا کہ یہ ایک بہت تکنیکی عمل ہوگا، جس میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ جمع کیے گئے ہتھیاروں کو محفوظ طریقے سے کہاں اور کیسے رکھا جائے۔

حکام کے مطابق آخری مرحلے میں غزہ میں موجود تمام ذاتی ہتھیاروں کے بارے میں بھی فلسطینی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا اور ان سے متعلق کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا، ”اس عمل کے دوران مختلف مسلح گروہوں اور قبائلی دھڑوں کو بھی اپنے ہتھیار جمع کرانے ہوں گے۔“

حکام نے واضح کیا کہ یہ صرف مجوزہ طریقہ کار کا ابتدائی خاکہ ہے، جبکہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے آئندہ مزید تفصیلات اور متعلقہ فریقوں کی رضامندی درکار ہوگی۔

خیال رہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کا ذکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ کی جنگ ختم کرنے کے منصوبے کے دوران کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ’بورڈ آف پیس‘ ایک نیا عالمی امن اقدام ہے، جس کا مقصد ابتدا میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے کام کرنا تھا، تاہم بعد ازاں اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تنازعات تک بڑھا دیا گیا تھا۔ اس بورڈ کی سربراہی خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جبکہ ماضی میں اس نوعیت کی عالمی امن کوششیں زیادہ تر اقوام متحدہ کے تحت کی جاتی رہی ہیں۔

بورڈ کے مجوزہ چارٹر کے مطابق رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی، تاہم جو ملک بورڈ کی سرگرمیوں کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا، اسے مستقل رکنیت دی جا سکے گی۔ وائٹ ہاؤس نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اس اقدام کے بانی ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ ہوں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بورڈ آف پیس کا مقصد صرف غزہ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ دنیا کے مختلف تنازعات کے حل کے لیے بھی کام کرے گا۔

بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اب تک دو درجن سے زائد ممالک اس اقدام کے بانی اراکین کے طور پر شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، مصر، قطر، بحرین، اردن، کویت، مراکش، ترکی، متحدہ عرب امارات، پاکستان، انڈونیشیا، قازقستان، ویتنام، ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، البانیہ، بیلاروس، بلغاریہ، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، ہنگری، کوسووو، منگولیا، پیراگوئے اور ازبکستان سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

اس اقدام میں شامل کئی مشرق وسطیٰ کے ممالک وہ بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ برس اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بورڈ آف پیس مستقبل میں عالمی تنازعات کے حل کے لیے عملی طور پر کس نوعیت کے اختیارات استعمال کرے گا۔

Read Comments