بارش کے پانی سے پاؤں کی خارش دور کرنے کے فوری اور آسان گھریلو طریقے
مون سون کے موسم میں بارش کا پانی جلد کی کئی بیماریوں اور پریشانیوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ اس موسم میں سب سے عام اور تکلیف دہ مسئلہ بارش کے گندے پانی، نمی اور زیادہ دیر تک گیلے جوتے یا موزے پہننے کی وجہ سے پیروں میں اچانک خارش، سرخ دانے اور جلن کا ہونا ہے۔ اگر ان علامات کو شروع ہی میں نظر انداز کر دیا جائے تو معمولی خارش بھی شدید انفیکشن کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اگر آپ بھی بارش کے دنوں میں پیروں کی جلن اور خارش سے پریشان ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے گھر میں موجود چند عام اور قدرتی اشیا کی مدد سے اس مسئلے سے فوری نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
ناریل کا تیل
ناریل کا تیل جلد کی بیماریوں کے لیے ایک بہترین قدرتی تحفہ ہے۔ اگر بارش کے پانی سے پیروں میں خارش ہو رہی ہو تو سب سے پہلے پاؤں کو صاف پانی سے اچھی طرح دھوکر نرم تولیے سے مکمل خشک کریں۔ اس کے بعد ناریل کا تیل لگانا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ناریل کے تیل میں قدرتی اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو جلد کو نرم رکھنے کے ساتھ جراثیم کی افزائش کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور جلد کی جلن کو فوری طور پر ختم کرتی ہے۔
ایلو ویرا جیل
اگر خارش کے ساتھ پاؤں میں جلن محسوس ہو رہی ہو تو ایلو ویرا جیل کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ تازہ ایلو ویرا کا گودا نکال کر متاثرہ جگہ پر لگانے سے جلد کو ٹھنڈک ملتی ہے اور خارش میں فوری آرام آتا ہے۔ ایلو ویرا ہماری جلد کو نرم رکھتا ہے اور انفیکشن کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
نیم کا پیسٹ
جلد کے مسائل اور جراثیم کو ختم کرنے کے لیے نیم کا استعمال سالہا سال سے کیا جا رہا ہے۔ نیم کے تازہ پتوں کو تھوڑے سے پانی کے ساتھ پیس کر ایک گاڑھا لیپ یا پیسٹ بنا لیں۔ اس پیسٹ کو پاؤں پر خارش والی جگہ پر لگانے سے معمولی خارش اور الرجی میں بھی آرام مل سکتا ہے۔
کولڈ کمپریس
اگر پیروں میں بہت شدید خارش یا سوجن ہو رہی ہو تو ٹھنڈی سیک یعنی کولڈ کمپریس کا طریقہ اپنائیں۔ اس کے لیے ایک صاف کپڑے میں برف کا ٹکڑا لپیٹ کر تقریباً 10 منٹ تک متاثرہ حصے پر رکھا جائے۔ یاد رہے کہ برف کو کبھی بھی براہ راست اپنی جلد پر نہ رگڑیں بلکہ کپڑے میں لپیٹ کر ہی استعمال کریں۔ اس سے خارش اور سوجن میں فوری کمی آتی ہے۔
موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن
اگر آپ کے پاس قدرتی جڑی بوٹیاں موجود نہ ہوں تو آپ بازار میں دستیاب معیاری موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ لوشن لگانے سے جلد کی خشک سالی ختم ہوتی ہے اور پاؤں کی جلن اور خارش میں آرام ملتا ہے۔
دیگراحتیاطی تدابیر
بارش میں بھیگنے کے بعد جوتے اور موزے فوراً تبدیل کریں، روزانہ صاف اور خشک موزے پہنیں، گیلے جوتے دوبارہ استعمال نہ کریں اور ممکن ہو تو سانس لینے کے قابل جوتوں کا انتخاب کریں۔ اگر پاؤں میں زیادہ پسینہ آتا ہو تو اینٹی فنگل پاؤڈر بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارش کئی دن تک برقرار رہے، پیروں میں شدید سوجن، پیپ، زخم، تیز درد یا بخار جیسی علامات ظاہر ہوں، یا متاثرہ حصہ تیزی سے پھیلنے لگے تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر جلد کے مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بعض صورتوں میں اینٹی فنگل یا دیگر ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یاد رکھیں یہ گھریلو طریقے صرف ابتدائی اور ہلکی نوعیت کی تکلیف میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں بروقت طبی معائنہ ہی محفوظ اور مؤثر حل ہے۔