عالمی جنگِ عظیم نے معروف کولڈ ڈرنک 'فانٹا' کو کیسے جنم دیا؟

فانٹا کا نارنجی رنگ کب اور کیسے برینڈ کی شناخت بنا؟
شائع 04 اگست 2026 01:45pm

آج فانٹا دنیا کے مقبول ترین سافٹ ڈرنکس میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا شوخ نارنجی رنگ اور میٹھا اور ہلکا کھٹا ذائقہ اسے دیگر مشروبات سے الگ پہچان دیتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس مشروب کی ابتدا دوسری جنگ عظیم کے دوران پیش آنے والے غیر معمولی حالات کے باعث ہوئی تھی۔

1941 میں جب امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تو امریکا اور جرمنی کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں جرمنی میں قائم کوکا کولا کے کارخانوں کو وہ خصوصی شربت ملنا بند ہوگیا جس سے اصل کوکا کولا تیار کی جاتی تھی۔ اس صورتحال نے کمپنی کے لیے پیداوار جاری رکھنا مشکل بنا دیا۔

اس وقت کوکا کولا جرمنی کے سربراہ میکس کیتھ نے فیصلہ کیا کہ مقامی طور پر دستیاب اشیا استعمال کرکے ایک نیا مشروب تیار کیا جائے۔ ان کی ٹیم نے سیب کے رس کی تیاری کے بعد بچ جانے والے گودے، پنیر بنانے کے عمل سے حاصل ہونے والے پانی اور چقندر کی چینی کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیا مشروب تیار کیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق یہی مشروب بعد میں فانٹا کے نام سے مشہور ہوا۔

نئے مشروب کا نام رکھنے کے لیے میکس کیتھ نے اپنی ٹیم سے تخلیقی انداز میں سوچنے کو کہا۔ اسی دوران کمپنی کے ایک سیلز مین جو کنیپ نے ”فانٹا“ نام تجویز کیا، جو جرمن لفظ ”فینٹاسی“ سے لیا گیا تھا، جس کا مطلب ”تخیل“ یا ”تصور“ ہے۔

جنگ کے زمانے میں چونکہ یہ مشروب مقامی اجزا سے تیار کیا جاتا تھا، اس لیے یہ جرمنی میں مقبول ہوگیا اور کمپنی کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد ملی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی فانٹا نارنجی ذائقے کا نہیں تھا۔ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا مختلف علاقوں میں دستیاب اشیا کے مطابق بدلتے رہتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اٹلی میں سنگترے کی فراوانی کے باعث فانٹا کا نارنجی ذائقہ تیار کیا گیا، جو بعد میں دنیا بھر میں اس برانڈ کی شناخت بن گیا۔ اسی کے ساتھ فانٹا کا مشہور نارنجی رنگ بھی عالمی سطح پر مقبول ہوا۔

فانٹا کی کہانی کو سمجھنے کے لیے کوکا کولا کی تاریخ بھی اہم ہے۔ 1884 میں امریکی فارماسسٹ جان پیمبرٹن نے ایک مشروب تیار کیا تھا جسے ”پیمبرٹنز فرنچ وائن کوکا“ کہا جاتا تھا۔ اس میں کوکا کے پتے، الکحل اور کولا نٹس کا عرق شامل تھا، جن میں قدرتی طور پر کیفین پائی جاتی ہے۔

1886 میں امریکی ریاست جارجیا میں الکحل کی فروخت پر پابندی کے بعد جان پیمبرٹن کو اپنے مشروب کا نیا فارمولا تیار کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے اکاؤنٹنٹ فرینک رابنسن کے ساتھ مل کر کوکا کے پتوں اور کولا نٹس پر مشتمل لیکن بغیر الکحل کے ایک نیا سیرپ بنایا۔ بعد ازاں یہ سیرپ اٹلانٹا کی جیکبز فارمیسی لے جایا گیا، جہاں اسے سوڈا واٹر میں ملا کر پیش کیا گیا۔ اسی تجربے سے کوکا کولا کی بنیاد پڑی۔

ابتدائی دور میں کوکا کولا میں کوکا کے پتوں سے حاصل ہونے والی کوکین کی بہت معمولی مقدار موجود ہوتی تھی، تاہم 1903 میں کمپنی نے اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔ بعد ازاں کولا نٹس کا استعمال بھی بند کردیا گیا اور کیفین الگ سے شامل کی جانے لگی، جبکہ مشروب کا بھورا رنگ کیریمل سے حاصل کیا جاتا ہے۔

1936 کے برلن اولمپکس میں کوکا کولا اسپانسر کے طور پر شریک تھی اور 1930 کی دہائی کے آخر تک یہ برانڈ جرمنی میں مضبوط مقام حاصل کر چکا تھا۔ تاہم جنگ کے دوران امریکا سے سیرپ کی فراہمی بند ہونے کے بعد مقامی اجزا سے تیار کیا گیا متبادل مشروب ہی بعد میں فانٹا کی شکل میں دنیا بھر میں مشہور ہوا۔

Read Comments