کینسر کے مریض ہیئر کلر کب اور کیسے استعمال کریں؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں

ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کی 36 سالہ تحقیق ہیئر ڈائی کے استعمال اور کینسر کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
اپ ڈیٹ 05 اگست 2026 01:35pm

کینسر کے علاج کے دوران یا علاج مکمل ہونے کے بعد جب مریض کے بال دوبارہ اگنا شروع ہوتے ہیں تو یہ صرف ظاہری تبدیلی نہیں بلکہ صحت یابی اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے مریض اپنے سفید بال چھپانے یا بالوں کو نیا رنگ دینے کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

کینسر کے علاج میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کا مقصد جسم میں تیزی سے بڑھنے والے کینسر کے خلیات کو ختم کرنا ہوتا ہے، لیکن اس عمل کے دوران بالوں کی جڑیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بال جھڑ جاتے ہیں یا بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ جب علاج کے بعد نئے بال اگتے ہیں تو وہ پہلے کی نسبت زیادہ نازک، خشک اور حساس ہوتے ہیں جبکہ سر کی جلد بھی آسانی سے متاثر ہو سکتی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی کے دوران اور علاج ختم ہونے کے کئی ماہ بعد تک سر کی جلد انتہائی حساس رہتی ہے۔ اس عرصے میں عام مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے جلد پر جلن، کیمیائی زخم، الرجی اور بالوں کی جڑوں کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے بالوں کی صحت مند نشوونما بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ہیئر ڈائی کے ممکنہ خطرات جاننے کے لیے مختلف تحقیقی اداروں نے کئی مطالعات کیے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹل ہیلتھ سائنسز کی “سسٹر اسٹڈی“ میں 46 ہزار سے زائد خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ مستقل ہیئر ڈائی اور کیمیکل ہیئر اسٹریٹنر باقاعدگی سے استعمال کرنے والی خواتین میں بعض اقسام کے بریسٹ کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا، خاص طور پر ان خواتین میں جو بار بار مستقل رنگ استعمال کرتی تھیں۔

اسی طرح ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ کی 36 سالہ تحقیق، جس میں ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ خواتین شامل تھیں، کے مطابق مجموعی طور پر ہیئر ڈائی کے استعمال سے زیادہ تر کینسرز کا خطرہ نہیں بڑھا، تاہم طویل عرصے تک مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے والی بعض خواتین میں جلد، بیضہ دانی اور بریسٹ کینسر کی چند مخصوص اقسام کا خطرہ معمولی حد تک زیادہ دیکھا گیا۔

عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے بھی ہیئر ڈائی کے استعمال کا جائزہ لیا۔ ادارے کے مطابق ذاتی استعمال کے حوالے سے موجود شواہد کی بنیاد پر ہیئر ڈائی کو انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ہیئر ڈریسرز اور نائیوں جیسے افراد، جو پیشہ ورانہ طور پر ان کیمیکلز کے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، ان کے لیے خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے صحت یاب ہونے والے افراد کو ہیئر ڈائی خریدتے وقت اس کے اجزاء ضرور پڑھنے چاہییں۔ خاص طور پر پیرا فینائلین ڈائی امین (پی پی ڈی)، امونیا، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، پیرا بینز اور فیتھالیٹس جیسے کیمیکلز حساس جلد اور نئے اگنے والے بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹرز عام طور پر مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ کیموتھراپی مکمل ہونے کے کم از کم چھ ماہ بعد ہی مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے پر غور کریں۔ اس دوران بالوں کو مضبوط ہونے اور سر کی جلد کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اگر کوئی مریض علاج کے دوران اسکالپ کولنگ کروا رہا ہو یا سر پر ریڈی ایشن دی گئی ہو تو اسے اپنے معالج کی واضح اجازت کے بغیر ہیئر ڈائی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج مکمل ہونے کے بعد پہلے چھ ماہ تک کیمیائی رنگوں سے گریز کیا جائے اور سر کی جلد کو نمی فراہم کرنے پر توجہ دی جائے۔ چھ ماہ بعد بھی ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے پہلے اپنے آنکولوجسٹ سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ بالوں اور سر کی جلد کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔

اگر مریض بالوں کو رنگنا چاہتا ہے تو نسبتاً محفوظ متبادل بھی موجود ہیں۔ ان میں خالص مہندی یا دیگر قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ رنگ شامل ہیں، بشرطیکہ ان میں مصنوعی کیمیکلز شامل نہ ہوں۔ اس کے علاوہ امونیا اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سے پاک سیمی پرمننٹ رنگ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ عارضی روٹ پاؤڈر یا کلر مسکارا بھی ایک ایسا آپشن ہے جو ایک بار شیمپو کرنے سے صاف ہو جاتا ہے۔

طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی رنگ کے استعمال سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کیا جائے تاکہ الرجی یا جلن کی صورت میں بروقت معلوم ہو سکے۔ جہاں ممکن ہو، رنگ کو براہ راست سر کی جلد پر لگانے کے بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن میں رنگ جلد سے کم سے کم رابطے میں آئے۔

ماہرین کے مطابق کینسر کے علاج کے بعد بالوں کی دیکھ بھال دوبارہ شروع کرنا مریض کے لیے ایک خوش آئند مرحلہ ہوتا ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ جلد بازی سے گریز کیا جائے، محفوظ متبادل اختیار کیے جائیں اور کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کیا جائے تاکہ صحت یابی کا عمل متاثر نہ ہو۔

Read Comments