ہائی یا لو بلڈ پریشر میں کتنا نمک کھانا چاہیے؟
آج کل بلڈ پریشر یعنی خون کے دباؤ کا مسئلہ بہت عام ہو چکا ہے اور ہر دوسرا شخص یا تو ہائی بی پی سے پریشان ہے یا پھر لو بی پی کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں دن بھر میں کتنا نمک کھانا چاہیے کیونکہ نمک کا براہ راست تعلق انسان کے بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے طبی ماہرین نے نمک کی صحیح مقدار اور اس کے استعمال کے بارے میں آسان معلومات فراہم کی ہیں۔
ہندوستان ڈاٹ کام کے مطابق معروف طبی ماہر ڈاکٹر بمل چھاجڑ نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آپ ہائی بی پی کے مریض ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو نمک بالکل ہی بند کر دینا چاہیے، کیونکہ نمک جسم کے نظام کو چلانے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ جاننے کا طریقہ بتایا کہ انسان نمک کے معاملے میں کتنا حساس ہے
ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ پہلے تین دن اپنا بی پی چیک کریں، پھر اگلے تین دن کھانا تھوڑا زیادہ نمک کی مقدار میں معمولی اضافہ کر کے بی پی کی ریڈنگ لیں اور اس کے بعد کم نمک کھا کر بی پی چیک کریں۔ یہ ریڈنگ آپ کو بتا دے گی کہ نمک سے آپ کا بی پی متاثر ہوتا ہے یا نہیں۔
ڈاکٹر بمل کا مزید کہنا تھا کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا بی پی کیوں اوپر نیچے ہوتا ہے۔ جن کو اپنے بی پی کی صورتحال معلوم ہے وہ یہ تجربہ نہ کریں اور صرف نمک کی صحیح مقدار استعمال کریں۔ اگر بی پی لو رہتا ہو تو نمک کی مناسب مقدار لیں اور اگر ہائی رہتا ہو تو تھوڑا کم کھائیں۔
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک عام اور تندرست انسان کو دن بھر میں پانچ گرام سے کم یعنی تقریباً ایک چھوٹے چمچ کے برابر ہی نمک کھانا چاہیے۔
طبی ماہرین کے مطابق جب کسی انسان کا بلڈ پریشر لو ہوتا ہے تو اس کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں پانی میں نمک ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جسم میں سوڈیم اور پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ جب جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے تو خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے بی پی گر جاتا ہے۔
اس کے برعکس ہائی بلڈ پریشر میں جسم میں زیادہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے خون کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ہائی بی پی کے مریضوں کو نمک کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لو بلڈ پریشر کی علامات میں کمزوری، چکر آنا، بے ہوشی محسوس ہونا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا اور ٹھنڈا پسینہ آنا شامل ہو سکتا ہے جبکہ ہائی بی پی ہونے پر سر میں شدید درد رہتا ہے، چکر آتے ہیں، دھندلا دکھائی دینے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کی مقدار ہر شخص کی صحت، عمر اور بیماری کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی خوراک میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔