زیاد بشیر پاکستان بزنس کونسل کے نئے چیئرمین منتخب

حیدر علی پاکستان بزنس کونسل کے وائس چیئرمین مقرر
شائع 07 اگست 2026 09:52pm

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے ڈائریکٹر زیاد بشیر کو آئندہ 18 ماہ کے لیے اپنا نیا چیئرمین منتخب کرلیا ہے جب کہ پیکجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو اور منیجنگ ڈائریکٹر سید حیدر علی کو اسی مدت کے لیے وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے جمعے کو اپنی نئی قیادت کا اعلان کرتے ہوئے زیاد بشیر کو چیئرمین منتخب کیا۔ وہ فروری 2025 سے کونسل کے نائب چیئرمین کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور وہ کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بھی رکن ہیں۔

48 سالہ زیاد بشیر 2005 میں پاکستان بزنس کونسل کے قیام کے بعد اس عہدے پر فائز ہونے والے کم عمر ترین چیئرمینوں میں شمار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب پیکجز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو اور منیجنگ ڈائریکٹر سید حیدر علی کو آئندہ 18 ماہ کے لیے وائس چیئرمین منتخب کیا گیا ہے، وہ طویل عرصے سے کونسل کے بورڈ آف گورنرز سے وابستہ ہیں۔

پاکستان بزنس کونسل 2005 میں ملک کے 14 بڑے کاروباری گروپس نے پالیسی سازی کے حوالے سے نجی شعبے کی مؤثر نمائندگی کے لیے قائم کی تھی۔ اس وقت کونسل کے ارکان کی تعداد 102 کمپنیوں تک پہنچ چکی ہے، جو مجموعی قومی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد، ٹیکس وصولیوں کا 25 فیصد اور ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 11 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔

زیاد بشیر اس سے قبل بھی مختلف معاشی اور پالیسی معاملات میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ وزیراعظم کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن ہیں اور پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے بانی چیئرمین بھی ہیں، جسے انہوں نے ملک کے باضابطہ ریٹیل سیکٹر کو پالیسی سازی میں منظم نمائندگی فراہم کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔

پاکستان بزنس کونسل میں ان کی خدمات کے دوران برآمدی مسابقت بڑھانے، ٹیکس نیٹ میں توسیع، مارکیٹ تک رسائی، نجکاری اور ریٹیل سیکٹر کی دستاویز بندی جیسے شعبے ان کی توجہ کا مرکز رہے۔ انہوں نے نجی شعبے کی نمائندگی کرتے ہوئے وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی مختلف معاملات پر رابطے کیے۔

زیاد بشیر کراچی میں ڈنمارک کے اعزازی قونصل جنرل بھی ہیں۔ انہیں 2025 میں پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ میں کردار پر ڈنمارک کے شاہی اعزاز ”نائٹس کراس آف دی آرڈر آف دی ڈینی بروگ“ سے نوازا گیا تھا۔ وہ سیٹیزنز آرکائیو آف پاکستان کے بورڈ کے رکن بھی ہیں، جو قومی ورثے کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں تاریخی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے۔

گل احمد گروپ میں زیاد بشیر نے آئیڈیاز بائی گل احمد کی بنیاد رکھی، جو آج ملک کی سب سے بڑی ریٹیل چینز میں شمار ہوتی ہے۔

چیئرمین منتخب ہونے کے بعد اپنے بیان میں زیاد بشیر نے کہا کہ پاکستان بزنس کونسل کی شناخت حکومت سے مراعات طلب کرنے کے بجائے معیاری اور قابلِ عمل پالیسی تجاویز پیش کرنے سے قائم ہوئی ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”پاکستان بزنس کونسل کبھی بھی ایسا ادارہ نہیں رہا جو حکومت سے رعایتیں طلب کرے اور نہ ہی اسے ایسا ادارہ بننا چاہیے۔ ہمارے ارکان ملکی برآمدات اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں، اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عمومی شکایات کے بجائے اچھی طرح تیار کی گئی قابلِ عمل تجاویز پیش کریں۔“

زیاد بشیر نے مزید کہا کہ اپنے 18 ماہ کے دورِ صدارت میں وہ برآمدات کی مسابقت بڑھانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے اور ایسے حالات پیدا کرنے پر توجہ دیں گے جن سے پاکستانی کمپنیاں چھوٹے اور منتشر رہنے کے بجائے مزید ترقی کر سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”پاکستان میں اچھی معاشی اور پالیسی تجاویز کی کمی نہیں، اصل کمی ان پر مؤثر عمل درآمد کی ہے۔ میں چاہوں گا کہ میری مدت کے اختتام پر کونسل کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جائے کہ ہم نے دو یا تین ایسے اقدامات کیے جن سے حقیقی تبدیلی آئی نہ کہ صرف تجاویز کی تعداد پر۔“

Read Comments