1947 میں دبئی کس طرح پاکستان کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا؟
آج کے جدید اور معاشی طور پر دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہونے والے دبئی کو متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی اور ملک کا حصہ تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ اگر سنہ 1947 میں برطانوی حکومت کی ایک تجویز کو تسلیم کر لیا جاتا، تو آج پاکستان کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بالکل مختلف ہوتا اور دبئی سمیت خلیج کے کئی اہم علاقے پاکستان کا حصہ ہوتے۔
یہ حیرت انگیز انکشاف مشہور مؤرخ اور مصنف سیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ میں کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح تقسیمِ ہند کے وقت خلیجِ فارس کے یہ عرب علاقے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔
عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریز دور میں خلیجی ریاستوں کا انتظام براہِ راست لندن سے چلایا جاتا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہائیوں تک دبئی سمیت خلیج کے زیادہ تر علاقوں کا نظامِ حکومت لندن کے بجائے برطانوی ہند کے دارالحکومت دہلی سے چلایا جاتا تھا اور یہ تمام علاقے عملی طور پر برطانوی ہند کی سلطنت کا حصہ تھے۔
اس تاریخی رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیم ڈیلریمپل بتاتے ہیں کہ عدن سے لے کر کویت تک عرب کے تمام برطانوی زیرِ قبضہ علاقوں کا انتظام دہلی سے ہی چلایا جاتا تھا، جن کی نگرانی انڈین پولیٹیکل سروس کرتی تھی، وہاں انڈین فوج کی تعیناتی ہوتی تھی اور وہ سب بھارت کے وائسرائے کو جوابدہ تھے۔
سیم ڈیلریمپل نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان تمام ریاستوں کو قانونی طور پر بھارت کا ہی حصہ مانا جاتا تھا اور یہاں تک کہ موجودہ یمن کے شہر عدن میں بھی لوگوں کو انڈین پاسپورٹ جاری کیے جاتے تھے کیونکہ وہ ممبئی صوبے کے ماتحت تھا۔
اس گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1931 میں مہاتما گاندھی نے ان علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کے کئی نوجوان عرب خود کو انڈین نیشنلسٹ یعنی تحریکِ آزادی کے حامیوں کے طور پر پیش کرتے تھے۔
سیم ڈیلریمپل کے مطابق، جب 1947 میں انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑنے اور پاکستان و بھارت کی صورت میں دو خود مختار ممالک بنانے کا فیصلہ کیا، تو برطانوی حکام کے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان خلیجی ریاستوں کا انتظام اب کس کے حوالے کیا جائے۔ اس موقع پر برطانوی حکومت کے اندر ایک اہم بحث شروع ہوئی کہ کیا آزاد ہونے والے نئے ملک پاکستان کو اس خلیجِ فارس کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟
سیم ڈیلریمپل نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کا جغرافیہ خلیجی ممالک کے بالکل قریب تھا اور اس کے تاریخی و مذہبی روابط بھی عرب دنیا سے گہرے تھے، اس لیے اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ ان مسلم اکثریتی عرب علاقوں کو نو زائیدہ مسلم ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام دے دیا جائے یا انہیں پاکستان کی دیگر نوابی ریاستوں کی طرح اس کے وفاق میں شامل کرنے کا موقع دیا جائے۔
سیم ڈیلریمپل کے مطابق، انگریزوں نے یہ خلیجی علاقے مستقبل کی حکومتوں کو دینے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن اس وقت دہلی میں بیٹھے افسران کی ترجیحات مختلف تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں تعینات ایک برطانوی سفارت کار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دہلی کے عہدیداروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ خلیجِ فارس میں ان کی حکومت کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی انتظامیہ کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان عرب علاقوں کا کنٹرول مقامی لوگوں کو دینے کے حق میں نہیں تھے۔
کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ کے مطابق، خلیج میں مقیم ایک برطانوی باشندے ولیم ہے نے اس سوچ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ خلیجی عربوں کے معاملات کو سنبھالنے کی ذمہ داری انڈینز یا پاکستانیوں کو سونپنا واضح طور پر نامناسب ہوگا۔
برطانوی حکام کی اس ہچکچاہٹ اور دہلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل گیا، اور آزادی سے چند ماہ قبل، یعنی یکم اپریل 1947 کو برطانوی حکومت نے ایک باقاعدہ فیصلے کے تحت دبئی سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو قانونی طور پر برطانوی ہند کی حدود سے الگ کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ جب چند ماہ بعد اگست 1947 میں پاکستان اور بھارت نے اپنی حدود میں موجود سیکڑوں شاہی ریاستوں اور نوابی علاقوں کو اپنے ممالک میں شامل کرنا شروع کیا، تو یہ عرب ریاستیں اس مساوات سے باہر نکل چکی تھیں۔
سیم ڈیلریمپل کے مطابق، اگر اس وقت پاکستان کی قیادت خلیجی ریاستوں پر اصرار کرتی اور انگریزوں کی پیشکش کو قبول کر لیا جاتا، تو آج پاکستان نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ پورے خلیجِ فارس کا سب سے طاقتور ملک ہوتا اور دبئی کی تمام معاشی ترقی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہوتی۔