رات کو سوتے ہوئے ناک بند کیوں ہوجاتی ہے؟
کیا آپ دن کے وقت بالکل ٹھیک سانس لیتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو بستر پر لیٹتے ہیں، ناک بند ہونا شروع ہوجاتی ہے؟ یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو درپیش ہوتا ہے۔ ناک بند ہونے کی وجہ سے نیند متاثر ہوسکتی ہے، منہ سے سانس لینا پڑتا ہے اور صبح اٹھنے پر منہ خشک یا گلا خراب محسوس ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ ناک بند ہونے کو صرف نزلہ یا زکام سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق اس بارے میں ایسٹر وائٹ فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ رات کو سونے کے دوران ہمارے جسم کے اندر کچھ قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں جن کی وجہ سے ناک بند ہونے کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹرسبراتا داس کے مطابق سونے کی پوزیشن سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔ دن میں جب انسان سیدھا کھڑا یا بیٹھا ہوتا ہے تو کشش ثقل ناک میں بننے والی رطوبت کو باہر نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن جب انسان لیٹ جاتا ہے تو رطوبت ناک کے اندر زیادہ جمع ہوسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔
رات کے وقت ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اس مسئلے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ہمارے جسم میں سوجن کو کم کرنے والا ہارمون رات کے وقت قدرتی طور پر کم بنتا ہے، جس کی وجہ سے ناک کے اندر کی سوجن زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ناک میں سوزش یا الرجی کا مسئلہ ہوتا ہے، ان میں رات کے وقت ناک بند ہونے کی شکایت زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔
ناک کے اندر موجود خون کی نالیوں اور رطوبت بنانے والے ٹشوز پر اعصابی نظام بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ رات کے وقت اعصابی سرگرمی میں تبدیلی سے ناک میں رطوبت کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ناک بھری بھری محسوس ہوتی ہے۔
رات کو ناک بند ہونے کی ایک بڑی وجہ الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
کمرے کے اندر موجود دھول مٹی، گدوں، تکیوں، پردوں اور قالینوں میں پائے جانے والے باریک کیڑے یعنی ڈسٹ مائٹس الرجی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کمرے کی دیواروں پر نمی یا سیلن کی وجہ سے پھپھوندی لگی ہو تو اس کی وجہ سے بھی رات کو ناک بند ہو سکتی ہے اور چھینکیں يا خارش شروع ہو سکتی ہے۔
ایک اور بڑی وجہ معدے کی تیزابیت بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دن کے وقت جب ہم سیدھے ہوتے ہیں تو خوراک اور تیزابیت معدے میں ہی رہتی ہے۔ لیکن رات کو کھانا کھا کر فوراً لیٹنے سے معدے کا تیزاب گلے کی طرف آنے لگتا ہے جس سے گلے میں جلن اور ناک بند ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
اگر ناک بند ہونے کے ساتھ سینے میں جلن، منہ میں کھٹا ذائقہ، بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت یا صبح کے وقت گلے میں جلن بھی محسوس ہوتی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
رات کو ناک بند ہونے سے بچنے کے لیے سب سے پہلے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ الرجی کی وجہ سے ہے تو ڈاکٹر علامات کے مطابق ناک کے اسپرے یا دوسری دوا تجویز کرسکتے ہیں۔ گھر میں دھول کم رکھنا، بستر اور تکیوں کی صفائی کرنا اور پھپھوندی یا نمی کو ختم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ اگر صبح اٹھ کر ناک بند محسوس ہو تو عام درجہ حرارت کے پانی سے ناک کی صفائی کرنی چاہیے۔ ایک نتھنے میں پانی ڈال کر دوسرے سے نکالنے سے جمع شدہ بلغم صاف ہو جاتی ہے۔
اگر گلے میں خرابی ہو تو نیم گرم نمک کے پانی سے غرارے کرنے سے بھی آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں کی باقاعدگی سے صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ دانتوں کی بیماریوں کا اثر بھی ناک پر پڑ سکتا ہے۔
تاہم مسلسل ناک بند رہنے کی صورت میں صرف گھریلو علاج پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ناک ہر رات بند ہوتی ہے، نیند بار بار خراب ہوتی ہے یا اس کے ساتھ مسلسل چھینکیں، چہرے میں درد، سر درد، بخار، سانس لینے میں مشکل یا ناک سے مسلسل رطوبت آتی ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔
کبھی کبھار ناک بند ہونا عام بات ہوسکتی ہے، لیکن اگر یہ مسئلہ مسلسل راتوں کو ہو رہا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کرنے سے نیند اور سانس لینے دونوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔