دوپہر کی ہلکی نیند کے بعد سر درد کیوں ہونے لگتا ہے؟
بہت سے لوگ دن بھر کام کرنے کے بعد دوپہر میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے سو جاتے ہیں، لیکن جاگنے کے بعد تازگی محسوس کرنے کے بجائے سر میں درد، جسم میں بھاری پن، تھکن اور خراب موڈ کا سامنا کرتے ہیں۔ بعض افراد میں یہ کیفیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دوپہر کی مختصر نیند بھی آرام دینے کے بجائے مزید پریشان کر دیتی ہے۔
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس مسئلے کی کچھ عام وجوہات ہیں جنہیں سمجھ کر اس سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔
دوپہر کی نیند کے بعد سر درد کی عام وجوہات
طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کو سونے کے بعد سر درد ہونا ہر بار کسی بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ نیند کا زیادہ لمبا ہوجانا، جسم میں پانی کی کمی، غلط انداز میں سونا، کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا یا دن میں بہت دیر سے نیند لینا اس کی عام وجوہات میں شامل ہوسکتی ہیں۔
زیادہ دیر سونا سر درد کا سبب کیسے بنتا ہے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان دوپہر کو 30 سے 40 منٹ سے زیادہ لمبی نیند لیتا ہے تو جسم گہری نیند کے مرحلے میں چلا جاتا ہے۔ اس دوران اچانک جاگنے پر کچھ لوگوں کو شدید سستی، ذہنی دھند، جسم میں بھاری پن اور سر درد محسوس ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے ماہرین دوپہر کی نیند کو بہت زیادہ طویل کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
خون میں شوگر کی کمی سے سر درد کا تعلق
اس کے علاوہ دوپہر کو دیر سے یا لمبے وقفے کے بعد سونے سے جسم میں شوگر کی سطح کم ہو سکتی ہے، جو بیدار ہونے پر سر درد کا باعث بنتی ہے۔ اگر کسی شخص نے کافی دیر سے کچھ نہ کھایا ہو اور پھر دوپہر میں سو جائے تو جاگنے کے بعد کمزوری یا سر درد محسوس ہوسکتا ہے۔ تاہم ہر شخص میں اس کی شدت ایک جیسی نہیں ہوتی اور بار بار ایسی علامات ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
جسم میں پانی کی کمی بھی وجہ ہوسکتی ہے
جسم میں پانی کی کمی بھی دوپہر کے وقت سر درد کی ایک عام وجہ ہے، کیونکہ آرام کے دوران بھی جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان سوتے وقت بھی پانی سے محروم ہوتا رہتا ہے، اس لیے اگر دن بھر پانی کم پیا گیا ہو تو نیند سے جاگنے کے بعد سر میں درد یا جسم میں بھاری پن زیادہ محسوس ہوسکتا ہے۔
غلط پوزیشن میں سونے سے گردن اور سر میں درد
سونے کا انداز بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر تکیہ بہت اونچا یا بہت نیچا ہو، گردن ٹیڑھی ہو یا سونے کی جگہ آرام دہ نہ ہو تو گردن اور کندھوں کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوسکتا ہے۔
یہ کھچاؤ جاگنے کے بعد سر درد کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ اس لیے سوتے وقت سر اور گردن کو مناسب پوزیشن میں رکھنا چاہیے۔
مائگرین کے مریضوں کو دوپہر کی نیند کیوں متاثر کرسکتی ہے؟
اسی طرح دوپہر کو بہت دیر سے سونا جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے، جس سے رات کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے اور دماغ کی رگوں پر دباؤ پڑنے سے مائگرین یعنی آدھے سر کا درد بھی جاگ سکتا ہے۔
اگر کسی شخص کو دوپہر کی نیند کے بعد بار بار ایک ہی طرح کا شدید سر درد ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔
نیند کے بعد سر درد سے بچنے کے آسان طریقے
دوپہر کی نیند کے بعد سر درد سے بچنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ نیند کے دورانیے کو مختصر رکھا جائے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ دوپہر کے وقت ہمیشہ 15 سے 20 منٹ کی ہلکی سی نیند لیں۔ اس سے گہری نیند میں جانے کا امکان بھی کم رہتا ہے۔
مختصر نیند کے بعد عموماً جاگنا بھی آسان ہوتا ہے اور رات کی نیند متاثر ہونے کا امکان بھی کم ہوسکتا ہے۔
سونے کے لیے دوپہر بارہ بجے کے قریب کا وقت منتخب کریں اور تین سے چار بجے کے درمیان سونے سے پرہیز کریں۔ دن بھر اپنے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور آرام کرتے وقت گردن اور سر کو درست پوزیشن میں رکھیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ کھانا کھاتے ہی فوراً سونے سے گریز کریں تاکہ بلڈ شوگر کی سطح بہتر رہے اور جسم پر بھاری پن نہ آئے۔ روزانہ ایک ہی وقت پر تھوڑی دیر آرام کرنے کی عادت بنائیں تاکہ جسم کا نظام درست رہے اور دوپہر کی نیند کے بعد سر درد اور تھکن سے بچا جا سکے۔
اگر دوپہر کی نیند کے بعد سر درد کبھی کبھار ہو تو عموماً نیند کے دورانیے، پانی کی مقدار اور سونے کے وقت پر توجہ دینا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم اگر سر درد بار بار ہو، بہت شدید ہو یا اس کے ساتھ چکر، نظر میں تبدیلی، الٹی، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا دوسری غیر معمولی علامات بھی ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
اصل مقصد دوپہر کی نیند کو مکمل طور پر چھوڑنا نہیں بلکہ اسے صحیح وقت، مناسب دورانیے اور آرام دہ انداز میں لینا ہے۔ مختصر اور مناسب نیند کئی لوگوں کے لیے تازگی کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ بہت زیادہ یا غلط وقت کی نیند الٹا سر درد اور تھکن پیدا کرسکتی ہے۔