کون سا شخص خون عطیہ کر سکتا ہے اور کون نہیں؟
خون کا عطیہ دینا ایک بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک یونٹ خون کسی ایک نہیں بلکہ کئی ضرورت مند مریضوں کے کام آسکتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ ضرورت مند مریضوں کی جان بچانے کے لیے خوشی سے خون دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہر انسان خون دے سکتا ہے؟ خون دینے کے لیے عمر، وزن اور صحت کی کیا شرائط ہیں؟ اور کیا کوئی ایسا شخص جو بیمار ہو یا دوائیاں کھا رہا ہو، وہ خون دے سکتا ہے؟
اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کوئی خون نہیں دے سکتا ہے۔ خون دینے سے پہلے انسان کی صحت اور کچھ ضروری طبی جانچ کی جاتی ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ خون عطیہ کرنا متعلقہ شخص اور مریض، دونوں کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ، خون دینے سے پہلے اور بعد میں کچھ احتیاطی تدابیر اپنانا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ بھی خون دینے کا سوچ رہے ہیں تو پہلے اس کے ضروری اصول اور احتیاطیں جان لیں۔
کون خون عطیہ کرسکتا ہے؟
خون عطیہ کرنے سے پہلے عطیہ کرنے والے کی طبی تاریخ معلوم کی جاتی ہے۔ خون لینے سے پہلے ڈاکٹر اس بات کی تسلی کرتے ہیں کہ انسان کو کوئی پرانی بیماری تو نہیں، اس کے علاوہ ہیموگلوبن، بلڈ پریشر، نبض، جسم کا درجہ حرارت اور مجموعی صحت کی جانچ کی جاتی ہے۔ اگر تمام ضروری چیزیں درست ہوں تو ہی خون عطیہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
ایک مکمل صحت مند انسان باآسانی خون دے سکتا ہے۔ عام طور پر مرد ہر تین مہینے بعد اور عورتیں ہر چار مہینے بعد خون کا عطیہ دے سکتی ہیں۔
کون سے افراد کچھ عرصے کے لیے خون نہیں دے سکتے؟
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خون نہیں دے سکتے۔ وہ لوگ جن کا حال ہی میں کوئی آپریشن ہوا ہو، ویکسین یا ٹیکا لگا ہو، حاملہ خواتین یا وہ لوگ جو لمبے عرصے سے کسی بیماری کی دوائی کھا رہے ہوں، وہ کچھ وقت کے لیے خون نہیں دے سکتے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر یا متعلقہ بلڈ بینک کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ جن لوگوں میں خون کی شدید کمی ہو، جنہوں نے حال ہی میں جسم پر کوئی ٹیٹو بنوایا ہو یا جنہیں کوئی پرانی اور خطرناک بیماری ہو، انہیں بھی خون دینے سے روکا جاتا ہے۔
خون دینے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟
خون عطیہ کرنے سے پہلے اور بعد میں کچھ خاص باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ خون دینے سے تقریباً دو سے تین گھنٹے پہلے ہلکی اور غذائیت سے بھرپور غذا کھانی چاہیے۔ آئرن والی غذائیں بھی مفید ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مناسب مقدار میں پانی پینا اور اچھی نیند لینا ضروری ہے۔
خالی پیٹ خون عطیہ نہیں کرنا چاہیے۔ خون دینے سے پہلے سگریٹ نوشی سے بھی پرہیز کرنا بہتر ہے۔
خون دینے کے بعد کیا احتیاط کریں؟
اسی طرح خون دینے کے بعد بھی خوب پانی پیئیں اور کچھ ہلکا پھلکا کھائیں۔ تازہ جوس یا ناریل کا پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی دور ہوتی ہے اور طاقت آتی ہے۔
خون دینے کے فوراً بعد بھاری ورزش کرنے، بھاری وزن اٹھانے، سگریٹ پینے اور شراب نوشی سے سختی سے پرہیز کریں۔ اگر آپ کو چکر آئیں یا کمزوری محسوس ہو تو کچھ دیر لیٹ کر آرام کریں۔
خون عطیہ کرنا بلاشبہ ایک اچھا اور انسانیت کی خدمت کا کام ہے، لیکن خون دینے سے پہلے اپنی صحت اور بلڈ بینک کی مقررہ شرائط کو ضرور دیکھنا چاہیے۔