پاکستان کے وہ 5 سلیبریٹیز جنہیں اب ریٹائر ہوجانا چاہیئے
اس بات پر تو کوئی دو رائے نہیں کہ ایک نہ ایک دن ہم سب کو اس دنیا سے سب کچھ چھوڑ کر رخصت ہوجانا ہے۔ لیکن دنیا کو چھوڑنے سے قبل انسان کو اپنی زندگی میں ہی کئی ایسی چیزوں کو چھوڑنا پڑتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہیں۔
آج ہم آپ کو پاکستان کے کچھ ایسے ہی سلیبریٹیز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جنہیں اب اپنے شعبوں سے ریٹائر ہوجانا چاہیئے۔
ساحر لودھی
ہماری اس لسٹ میں سب سے پہلا نام ساحر لودھی کا ہے جو اس بات کا فن بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں میڈیا میں کس طرح رہنا ہے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ ایک انٹرٹینمنٹ کنگ ہیں۔ لیکن وہ خود کو اداکاری اور ڈانس میں کم مہارت رکھنے کے باوجود بولی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اب ان کو ریٹائر ہوجانا چاہیئے۔
میرا
ہماری اس لسٹ میں دورسرا نام مشہور و معروف اداکارا میرا کا ہے۔ جنہیں لوگ ان کی اداکاری کی وجہ سے نہیں بلکہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دینے والی گلابی انگریزی کی وجہ سے زیادہ جانتے ہیں تاہم اب ان کی بھی عمر اچھی خاصی ہوگئی ہے اور اب انہیں بھی اس شعبے کو خیرباد کہہ دینا چاہیئے۔
وہاب ریاض
ہماری لسٹ میں تیسرا نام قومی کرکٹ ٹیم کے بائیں ہاتھ سے تیز گیند کرنے والے بولر وہاب ریاض کا ہے جنہیں ان کی جارحانہ گیند بازی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ مختلف اوقات یہ جارح مزاجی فائدہ مند تو ثابت ہوتی ہے مگر کبھی کبھی یہی جارح مزاجی ٹیم کو شکست کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ ہمارے خیال میں اب ان کو بھی اب ریٹائرمنٹ لے ہی لینی چاہیئے۔
شہروز سبزواری
ہماری اس السٹ میں چوتھا نام شہروز سبزواری کا ہے جو لیجنڈری اداکار بہروز سبزواری کے بیٹے ہیں۔ ان کا تعلق اداکاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لیجنڈ خاندان سے ہے لیکن وہ اپنے آپ کو اس طرح منوانے میں ناکام رہے جس طرح ان کے والد نے اس شعبے سے شہرت حاصل کی۔ چند ایک کرداروں کے علاوہ ان کی کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں ہے جس کی بناء پر انہیں بھی ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیئے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ہماری لسٹ میں آخری نام مشہور و معروف ٹی وی اینکر اور رمضان ٹرانسمیشن کے مؤجد عامر لیاقت حسین کا ہے۔ اپنے کریئر کی ابتداء میں انہوں نے مذہبی اسکالر کے طور پر کام کیا لیکن اس کے بعد وہ میزبانی کے شعبے میں بھی آگئے اور مختلف تنازعات کا شکار بھی رہے تاہم ہمارے خیال میں اب انہیں بھی ریٹائر ہوجانا چاہیئے۔
بشکریہ: اسٹائل ڈاٹ پی کے






















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔