سپریم کورٹ نےتلورکےشکار پرعائد پابندی ختم کردی

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2016 08:37am

6229802_f496

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پرعائد پابندی ختم کردی،عدالت نے قراردیا ہے کہ نظرثانی درخواستوں کو دوبارہ سنا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے تلورکے شکارپرعائد پابندی کے حوالے سے دائرنظر ثانی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا،پانچ میں سے چارججز نے نظرثانی کی درخواستیں منظورکرتے ہوئے تلور کے شکار کی اجازت دی جبکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے پابندی ختم کرنے کی مخالفت کی۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے آٹھ جنوری کو تلورکے شکارپرعائد پابندی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ نے عبوری فیصلے میں کہا ہے کہ تلورکے شکار پر عائد پابندی سے متعلق نظرثانی کی درخواستوں کو ازسرنو سن کر تفصیلی فیصلہ سنایا جائے گا۔

کیس کی سماعتوں کے دوران وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پرندوں کے تحفظ کے لئے جن عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ان کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے عرب شہزادوں کو تلور کے شکار کی محدود اجازت دی تھی۔سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے انیس اگست دوہزارپندرہ کو تلورکے شکار پر پابندی عائد کرتے ہوئے عرب شہزادوں کے لائسنس بھی منسوخ کر دیئے تھے۔