بولی و ڈکا تبدیل ہوتا رجحان
فائل فوٹوکیا بولی وڈ میں رجحان تبدیل ہورہا ہے، اس وقت زیادہ تر لوگوں کی زبان پر یہی سوال ہے اور جس کا جواب بھی شاید ہاں ہے۔
ایک لمبی مدت سے بولی وڈ کی فلمیں سوئٹزرلینڈ کے برف سے ڈھکے حسین پہاڑیوں کے درمیان شفون کی ساڑھی میں لپٹی خوبصورت ہیروئن اور ہیرو کے رومانٹک گانوں یا نیو یارک کی بلند ترین عمارتوں کے درمیان ایکشن کے مناظر کے ساتھ انڈیا کی مڈل کلاس آبادی کو خوابوں کی دنیا میں لے جاتی رہی ہیں۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب لوگوں کی پسند اور مزاج دونوں بدل رہے ہیں۔ آج فلم 'بدری ناتھ کی دلہنیا'، 'جولی ایل ایل بی' اور ٹوائلٹ ایک پریم کتھا جیسی فلمیں کروڑوں کا کاروبار کر رہی ہیں جن میں چھوٹے شہروں اور قصبوں کے لوگوں کی کہانیاں، ان کے مسائل اور جذبات کی عکاسی کی جا رہی ہے اور ان موضوعات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو شاید حقیقی ہیں اور اسی لیے لوگوں کے دلوں کو چھو رہے ہیں۔
حال ہی میں اداکار راج کمار راؤ، کیرتی سینن اور ایوشمان کھرانہ کی فلم 'بریلی کی برفی' دیکھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ بریلی میں جھمکے کے علاوہ کچھ اور بھی ہے اور شاید فلمسازوں کو بھی یہ بات سمجھ میں آ چکی ہے جو اب سوئٹزر لینڈ اور لندن جیسی دل موہ لینے والی لوکیشنز کے بجائے انڈیا کے چھوٹے چوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کہانیاں ڈھونڈنے لگے ہیں۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ سنیما تھیٹر تک لوگوں کی بھیڑ کھینچ کر لانے کیلئے اب بڑے پردے پر بڑے بڑے ستاروں کا جمگھٹا لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
کسی بھی حساس موضوع پر بولنے یا لکھنے سے ٹوئنکل کھنہ کو بھلا کون روک سکتا ہے اب چاہے سوشل میڈیا پر فعال لوگوں کو ان کی بات پسند آئے یا نہیں یہ اور بات ہے کہ ٹوئنکل کا انداز تحریر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔
انڈیا میں تین طلاق کے حوالے سےعدالت کے فیصلے پر ہر سمجھدار اور ناسمجھ نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق رائے دینے کی کوشش کی اور ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا پر طبع آزمائی کون نہیں کرنا چاہتا۔ پھر کیا تھا بھانت بھانت کے لوگوں نے اس فیصلے کے حق میں رائے دینے کی کوشش کی جن میں ہمیشہ کی طرح فلمساز مدھر بھنڈارکر اور انوپم کھیر جیسے بڑے لوگ بھی شامل تھے۔
انوپم جی فرماتے ہیں کہ یہ عورتوں کے حقوق کی جیت ہے پتہ نہیں گودھرا اور گجرات فسادات کے دوران انوپم جی نے اپنے اعلیٰ خیالات کا اظہار کیوں نہیں کیا، شاید اس لیے کہ اس وقت ٹوئٹر نہیں تھا۔ مدھر بھنڈارکر کا کہنا ہے کہ یہ عورتوں کو با اختیار بنانے کے سلسلے کا آغاز ہے۔ مدھر کی بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ یہ ان فلمسازوں کی فہرست میں سب سے آگے ہیں جو اپنی فلموں میں حقیقت کے نام پر بِلاوجہ عورتوں کی مبینہ آزادی کی کھل کر نمائش کرتے ہیں۔
اکشے کمار کی فلم ٹوائلٹ ایک پریم کتھا باکس آفس پر کامیاب ہو رہی ہے۔ فلم نے پہلے ہی ہفتے میں 96 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی۔ فلم کی کامیابی اکشے کمار کے ساتھ ساتھ شاید اس کا موضوع بھی ہے۔ سو کروڑ کا بزنس کرنے والی یہ اکشے کی آٹھویں فلم ہے۔ حال ہی میں عامر خان نے درست ہی کہا تھا کہ سپر اسٹارز کے حوالے سے میڈیا صرف تین خانوں کا ذکر ہی کیوں کرتا ہے اکشے جیسے ہیرو بھی ہیں جنہوں نے انڈسٹری کو کامیاب اور اچھی فلمیں دی ہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔