ان غذاؤں کا استعمال دمے کی بیماری سے محفوظ رکھتا ہے

شائع 02 مئ 2018 06:49am

asthmaدنیا میں سب سے ذیادہ پائی جانے والی بیماریوں میں ایک بیماری دمہ بھی ہے۔ دنیا بھر میں ہر دسواں مریض اس بیماری کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے جس میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر احتیاط نہ برتی جائے تو یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بیماری پھیپڑوں کی بیماری ہے جو انسان کی سانس کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں سانس کی نالی تنگ ہونے، سینے پر جکڑن، سانس لینے میں دشواری اور کھانسی کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس بیماری سے محفوط رہنے کے لئے کیا چیزیں استعمال کی جاسکتی ہیں۔

دودھ

دودھ کیلشیئم کے ساتھ ساتھ میگنیشیئم سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ اس کی یہ خصوصیت سانس کی نالی تنگ ہونے سے روکتی ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں موجود وٹامن ڈی بھی دمہ کی بیماری سے حفاظت کے لئے جانا جاتا ہے۔

Related image

پیاز اور لہسن

غذا میں پیاز اور لہسن کا ذیادہ سے ذیادہ استعمال دمے کی بیماری سے محفوظ رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں اشیاء میں ایسے مرکبات موجود ہیں جو سانس کی نالی میں جلن اور سوزش کے لئے مفید ہیں۔

Related image

گاجر

گاجر میں موجود بیٹا کیروٹین جسم میں جا کر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ وٹامن جسم کو دمے کے دورے کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

Related image

ہلدی

ہلدی کی تاثیر گرم ہونے کی وجہ سے یہ دمے کی بیماری کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے۔ ہلدی کا استعمال دمے سے حفاظت بھی فراہم کرتا ہے۔

Related image

وٹامن سی

غذا میں ایسی اشیاء کا استعمال دمے سے حفاظت کرتا ہے جو وٹامن سی سے بھرپور ہوں۔ ان میں پالک، بیری، کینو اور دیگر پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ وٹامن سی سانس لینے میں دشواری کی شکایت دور کرتا ہے اور قوت مدافعت مضبوط بناتا ہے۔

Related image

دمے کا دورہ پڑنے کی صورت میں کیا کیا جائے؟

دورہ پڑنے کے وقت دو صورتیں پیش آسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ کے پاس انہیلر موجود ہو۔ اور دوسری یہ کہ انہیلر موجود نہ ہو۔ دورہ پڑتے وقت اگر مریض کے پاس انہیلر موجود ہو تو تنہا ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے دورے پر قابو پا سکتا ہے۔ مگر دس لوگوں کی موجودگی بھی اس کے کام نہیں آسکتی اگر اس کے پاس انہیلر موجود نہ ہو۔

سانس لینے میں شدید دشواری مریض کو بے حد خوف اور پریشانی کا شکار کر سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دمے کے مریض اپنی اس حالت پر صحیح طرح قابو پانا جانتے ہوں۔

اگر مریض کے پاس انہیلر موجود نہ ہو تو سب سے پہلے وہ پُرسکون ہوکر سیدھا بیٹھ جائے اور گھبراہٹ کو خود پر غالب نہ آنے دے۔ گھبراہٹ دمے کے دورے کو بدتر بنا سکتی ہے۔ سیدھے بیٹھنے کے بعد گہری اور لمبی سانسیں لینا شروع کرے۔ اگر آس پاس کسی بھی قسم کا دھوؤاں موجود ہونے کا امکان ہو تو اس سے بچے۔ اس قسم کے مشروبات کا استعمال کریں جن میں کیفین شامل ہو جیسا کہ چائے کافی وغیرہ۔

اگر دورے کی حالت میں انہیلر موجود ہو تب بھی سب سے پہلے سیدھے بیٹھ جائیں اور گھبراہٹ پر قابو پائیں۔ اپنے انہیلر کی مدد سے وقفے وقفے سے سانس لیں۔

اگر دونوں حالتوں میں دورے کی کیفیت میں آرام نہ پہنچے تو ایمبولینس یا فوری طبی امداد حاصل کریں۔

Thanks to TOI