کراچی:پی آئی اے ملازمین قتل کا مقدمہ ائیر پورٹ تھانے میں درج
کراچی:کراچی ایئرپورٹ پر فائرنگ سے جاں بحق دو پی آئی اے ملازمین کے قتل کامقدمہ ایئرپورٹ تھانے میں درج کرلیا گیا۔ رینجرزکی تحقیقاتی کمیٹی نے کام شروع کردیا جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جاری ویڈیو میں مشکوک قرار دیئے گئے شخص کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق پی آئی اے ملازمین کی ہلاکت سے متعلق رینجرز کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے۔ فوٹیج میں نظر آنے والے رینجرزاہلکاروں سمیت دوسرے افراد سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ جبکہ چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے مشکوک قرار دیئے گئے شخص کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا، مشکوک شخص کا نام میرواثق ہے اور یہ پی آئی اے شعبہ انجینئرنگ کے فائرڈیپارٹمنٹ کا ملازم ہے، سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ میر واثق کا فائرنگ سے کو ئی تعلق نہیں، اس موقع پر میرواثق نے میڈیا کے سامنے سفید رومال سے منہ ڈھانپ کے دکھایا،جس طرح سے ویڈیوکلپ میں انہوں نے چہرا ڈھانپ رکھا تھا۔
ادھر ائیر پورٹ پر دو پی آئی ملازمین کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں دو وفاقی وزرا اور وزیر اعظم کے مشیر ہوابازی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ مقامی عدالت کے حکم پر درج کیے جانے والے مقدمہ نمبر 2016/ 19 پی آئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،جس میں وفاقی وزیر پرویز رشید کے علاوہ سینٹر مشاہد اللہ خان، وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم، ماما مقصود اور بریگیڈئر ریٹائرڈ آصف اور دیگر ملوث ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔