ننکانہ صاحب: ہسپتال میں مفت ادویات اورپانی ناپید

شائع 08 فروری 2016 08:18am

Injured Pakistanis are treated in a hospital following an earthquake in Peshawar on October 27, 2015. Rescuers were picking their way through rugged terrain and pockets of Taliban insurgency in the search for survivors after a massive quake hit Pakistan and Afghanistan, killing nearly 300 people. The toll was expected to rise as search teams reach remote areas that were cut off by the powerful 7.5 magnitude quake, which triggered landslides and stampedes as it toppled buildings and severed communication lines. AFP PHOTO / HASHAM AHMED

ننکانہ صاحب: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں مفت ادویات کے بعد پانی بھی ناپید ہوگیا، ہسپتال انتظامیہ کی لوگوں کو گھروں سے اپنے ساتھ پانی لانے کی ہدایت، خراب ٹرانسفارمر کے ستائے مریض اور لواحقین سراپا احتجاج بن گئے۔

نا مفت ادویات نا بجلی اور اب نا ہی پانی،، یہ ہے ڈی ایچ کیو ہسپتال ننکانہ صاحب کی دکھ بھری کہانی، ستم بالائے ستم یہ کہ بے حس انتظامیہ نے مریضوں کے لواحقین کو پانی بھی گھروں سے لانے کی ہدایات جاری کر رکھیں ہیں۔ دوسری جانب کئی روز سے خراب ٹرانسفر اور خراب متبادل جنریٹر نے مریضوں کے ساتھ ساتھ لواحقین کو بھی ذہنی کرب میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر غلام یاسین کہتے ہیں کہ سات سال سے واپڈا کو ہسپتال کیلئے چار سو کے وی کے ٹرانسفارمر کی فائل مکمل کرکے دی ہوئی ہے مگر کام جوں کا توں ہی پڑا ہے۔

مریضوں اور انکے لواحقین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ہسپتال کے ان دیرینہ مسائل کو فوری طور پر حل کرکے انہیں ذہنی کوفت سے نجات دلائی جائے۔