پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کیخلاف احتجاج جاری
اسلام آباد:پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملازمین کا احتجاج سولہویں روز میں داخل ہوگیا ہے،ملک بھر میں پی آئی اے کے دفاتر پر ملازمین تالے لگا کر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
کراچی میں پی آئی اے ہیڈ آفس کھلا ہے لیکن ملازمین دفاتر میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں، ٹریننگ سینٹر سمیت بکنگ دفاتر میں کام تاحال بند ہے، انجینیئرنگ، ورکشاپس، گراوٴنڈ ہینڈلنگ اور فلائٹ آپریشنز کے شعبوں میں بھی کام ٹھپ ہے،اسلام آباد کے بینظیرانٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر ملازمین سراپا احتجاج ہیں،دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے بعد ملازمین کو ایئرپورٹ کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا دینے سے روک دیا گیا ہے۔
ڈی سی اوراولپنڈی کے احکامات پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تین رہنماوٴں طارق ڈار، سلیم بھٹی اور سہیل مختار کو پندرہ روز کیلئے نظربند کر دیا گیا ہے،لاہور،فیصل آباد،ملتان اور سیالکوٹ میں بھی دفاتر کی تالہ بندی ہے،جبکہ لاہور میں پی آئی اے کا ایجرٹن روڈ پر مرکزی دفتر بھی بند ہے،پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پر بھی فلائٹ آپریشن معطل ہے۔
ملازمین پی آئی اے بلڈنگ میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، ہڑتال کے باعث مرکزی آفس میں بکنگ جبکہ باچا خان ایئرپورٹ پر تمام شعبوں میں کام بند ہے۔کوئٹہ میں بھی پی آئی اے ملازمین سراپا احتجاج ہیں، حالی روڈ پر مرکزی بکنگ دفتر بند ہے،جبکہ فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہے اور لوگ نجی ایئرلائنز کے ذریعے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔