کھانے کی مقدار کم کرنے سے بہتر ہے کھانے کے اجزاء کو بدلا جائے

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2018 08:20am

7

وزن کا بڑھنا آج کل لوگوں کا بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے لوگ آج کل سلمنگ سینٹرز، فٹنس کلبز ، وزن گھٹانے کی ادویات پتلا ہونے کے گھریلو ٹوٹکے، بوٹ کیمپس اور نہ جانے کیا کیا جتن کرنے میں مصروف ہیں۔

حالیہ کچھ سالوں میں جم اور فٹنس سینٹرز کی تعداد میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہ انتہائی حیران کن ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور جنک فوڈ اور اسٹریٹ فوڈ کا دور ہے،بے تحاشہ مصروفیت کے باعث جو چیز با آسانی میسر ہو وہی سب سے اچھی ہے کیونکہ اسے کھانا آسان رہتا ہے اور محنت بھی درکا نہیں ہوتی۔

لیکن دوسری جانب  یہی آسانی ہمارے لیے بڑھتے وزن اور بڑھتی بیماریوں کی وجہ بن رہی ہے۔ پاکستان میں دیہاتوں کی نسبت شہری علاقوں میں بڑھتے وزن کی وجہ سے مسائل ابھر کر سامنے آرہے ہیں. اعدادوشمار کے مطابق شہروں میں موٹاپے کی شرح خواتین میں ٦٧ فیصد اور مردوں میں ٥٦ فیصد ہے، بچوں می‍ یہ تعداد ١٠ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، یہ اعداد و شمار یقیناً پریشان کن ہیں۔

ان مسائل کی وجہ جنک فوڈ کا عام زندگی کا حصہ بننا اور جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا ہے. وزن کم کرنے کی اس باگ دوڑ میں تقریباً ہر قسم کے ڈائیٹ پلان اپنایا اور جم بھی جوائن کیا لیکن ان ڈائیٹ پلان پر کچھ ہی عرصہ قائم رہی کیونکہ ایسے سخت قسم کے ڈائیٹ پلان کو زندگی کا حصہ بنانا قطعً آسان نہیں تھا. لوگ سلمنگ سینٹرز جوائن کرکے ڈائیٹنگ کر کے وزن گھٹا تو لیتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصے میں جب اپنے گذشتہ چھوڑ چکے لائف اسٹائل پر ۔آتے ہیں تو پہلے سے بھی زیادہ وزن بڑھا لیتے ہیں۔

اسٹینڈفورڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر کرسٹوفر گارڈنر کہتے ہیں کہ "اگر آپ یہ سوچ کر ڈائیٹنگ کرتے ہیں کہ اپنا ٹارگیٹ ویٹ حاصل کرکے اسے خیرآباد کہہ دیں گے یوں آپ کبھی بھی اپنا وزن کم نہیں کرسکتے. بہتر ہوگا کہ اس بات کا تہیہ کر لیں کہ ساری زندگی ایک صحت بخش غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔

کھانے کی مقدار کم کرنے سے بہتر ہے کھانے کے اجزاء کو بدلا جائے، 'ڈائیٹ' کی جگہ 'ہیلدی ڈائیٹ' کو دی جائے. پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات وغیرہ جیسے اجزاء آپ اپنی من پسند مقدار میں لے سکتے ہیں کیونکہ ہمارا جسم ایک خاص قسم کے فیٹس جسے سیچوریٹڈ فیٹ(saturated fat) کہتے ہیں، کو جمع کرتا ہے اور یہ فیٹ نارمل درجہ حرارت پر جم جاتا ہے، جس کے باعث کولیسٹرول جیسی بیماریاں پنپتی ہیں. سیچوریٹڈ فیٹس کی بڑی مقدار جنک فوڈ میں پائی جاتی ہے. یونیورسٹی آف منیسوٹا میں نفسیات کی پروفیسر ٹریسی مین اپنے تجربات کی بناء پر اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ "نفسیاتی طور پر لوگوں کے لیے سخت ڈائیٹ پلین پر قائم رہنا بہت دشوار ہوتا ہے کیونکہ یہ عمل دماغی طور پر انسان کی محرومی اور بھوک کو بڑھا دیتا ہے." دماغ کو تروتازہ رہنے کے لیے مناسب اور صحت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھوک اور فاقے کی حالت میں دماغ اپنا کام بہتر انداز میں نہیں کرسکتا. اس لیے زندگی کے اطوار بدلنا زیادہ سود مند ہے بنسبت فاقہ کشی کے. ہفتے میں کم از کم تین سے چار مرتبہ چہل قدمی یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی انتہائی ضروری ہے. یک دم بہت زیادہ ورزش کرنا اور پھر اسے چھوڑ دینے کے بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں. سائنسدان انسانی جسم کو پیچیدہ مشین کہتے ہیں، اپنے جسم کی میکانیات کو سمجھیے. گھریلو ٹوٹکوں سے گرہیز کریں، اور اپنے جسم و دماغ کے ساتھ ہر گز جبر نہ کریں، صحتمند کھانوں اور جسمانی سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ہفتے میں آدھا سے ایک کلو سے زیادہ وزن گھٹانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے ، فاقہ کشی کرکے یا سخت قسم کے ڈائیٹ پلان پر عمل  کرکے آپ جلدی وزن کم کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں گے لیکن اس کے مضر اثرات آپکی صحت کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں. دیرپا نتائج کے لیے اپنی زندگی کے اطوار اور کھانے کے اجزاء میں تبدیلی لائیں۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔