مچھلی نما انسانی بچے
کیا آپ یقین کریں گے کہ انسان بھی مچھلیوں کی طرح پانی میں تیر سکتے ہیں اور وہ سمندر کے راستوں سے اس طرح واقف ہوتے ہیں جس طرح ہم زمینی راستوں سے۔آپ کو یقین نہیں آرہا ہو گا ،تہائی لینڈ کےمغریبی ساحل کے گرد کئی جزیرے ہیں جن پر خانہ بدوش قبیلہ آباد ہیں ان سے تعلق رکھنے والے موکن لوگ ایسی ہی صلاحیت کے مالک ہیں۔
یہ ساحلی خانہ بدوش کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں موکن لوگ اپنی غذا کے لئے مکمل طور پر سمندر پر انحصار کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے بچے اپنا زیادہ وقت غذا کی تلاش کےلئے سمندر میں گزارتے ہیں وہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں سمندر کے اندر بہتر دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عام طور پرپانی کے اندر آپ کسی بھی چیز کو واضح طور پر نہیں دیکھ سکتے، ہر ایک شے دھندلی نظر آتی ہے آپ کوشش بھی کرنا چاہے تو ممکن نہیں اور نہ ہی کسی چیز پر بہت دیر تک نظر جما سکتے ہیں ۔ ایک بصری تحقیق کاراینا گسلین جن کا تعلق سویڈن سے ہے وہ موکن کے ساتھ پچھلے بیس سالوں سے کام کر رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ موکن بچے ڈولفن اور سیل کی طرح یہ دونوں صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنی آنکھ کی پتلیوں کو سکیڑنے اور ساتھ ہی لینس کی ظاہری ہیئیت بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ یورپین بچے موکن سے صرف ایک مہینے کی ٹرینگ کے بعد گہرے پانی میں واضح طور پر دیکھنا سیکھ گئےتھے۔
گسلین نے یورپین اور موکن بچوں کے درمیان پانی میں بہتر بصری صلاحیت کا اندازہ لگانے کے لئے ایک تجربہ کیا اس کے لئے انہوں نے سترہ موکن بچے جن میں دس لڑکیاں،سات لڑکے جن کی عمر سات سے تیرہ سال کے درمیان تھی۔اور اٹھارہ یورپین بچے جن میں چودہ لڑکیاں،چار لڑکے جن کی عمر بھی سات سے تیرہ سال کے درمیان تھی۔ تجربہ یہ تھا کہ ان بچوں کو اپنا سر پانی میں موجود کارڑ سے پچاس سینٹی میٹر کے فاصلے پر رکھنا تھا اور انہیں جلدی جلدی کارڈ دکھائے جاتے اور انہیں اسی سمت میں تیر کر پھر آکر بتانا ہوتا تھا کہ انہوں نے کیا دیکھا۔
اس تجربہ کو پانچ مرتبہ دہرایا گیا اور سمت بتانے والی لائن کو باریک سے باریک کیا گیا یہاں تک کہ اسے پہچاننا مشکل ہوگیا مگر ان بچوں نے صرف ایک غلطی کی۔ پانی کی جو کثافت ہے وہی ہماری آنکھ کے کرنیہ کے بھی کثافت ہے اس لیئے پانی میں کسی چیز پر فوکس نہیں کیا جاسکتا اس لئے ہر چیز دھندلی نظر آتی ہے۔ اس دنیا میں تقریبا ہر انسان کی آنکھ کی پتلی کا سائز ایک ہی ہے۔ مگر جب دونوں گروپ کے بچوں کی آنکھوں کا معائینہ کیا گیا تو موکن بچوں کی آنکھوں کی قرنیہ کا سائز مختلف تھا
نتیجے سے یہ بات سامنے آئی کہ موکن بچوں کی گہرے پانی میں دیکھنےکی صلاحیت دوسرے بچوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہے۔ اور اس قبیلے کا ہر بچہ یہ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔
یہ معمہ ابھی تک حل طلب ہے کہ وہ پانی میں کیسے دیکھ سکتے ہیں سوائے اس کے وہ اپنا وقت زیادہ تر پانی میں گزارتے ہیں

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔