کورونا کے باعث قیدیوں کی رہائی قانون کے مطابق نہیں،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2020 10:59am
فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ کورونا کے باعث قیدیوں کی رہائی قانون کے مطابق نہیں،قیدیوں کی رہائی کے بعد سے ڈکیتیاں بڑھ رہی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی خود کوبادشاہ سمجھ کرحکم جاری کرے، ملک میں قانون کے مطابق کام کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے کورونا وائرس کے باعث قیدیوں کی رہائی کیخلاف اپیل پرسماعت کی۔

 چیف جسٹس نے استفسارکیا کس قانون کے تحت ملزمان اورمجرموں کو ایسے رہا کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے، کسی الزام کی پروا نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں، سندھ ہائیکورٹ میں بھی کسی بادشاہ نے شاہی فرمان جاری کیا ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے 4 سطروں کی مبہم پریس ریلیزجاری کی ایسے لوگوں کو رہا کرنا ہے تو جیلوں کا سسٹم بند کردیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہاکہ  کورونا مریض کی چیکنگ کے نام پر ڈاکو گھروں کا صفایا کر رہے ہیں  کراچی میں ملزمان کی ضمانت ہوتے ہی ڈکیتیاں شروع ہو گئی ہیں، ڈیفنس کا علاقہ ڈاکوؤں کے کنٹرول میں ہے، ان حالات میں جرائم پیشہ افراد کوکیسے سڑکوں پرنکلنے دیں؟ ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ بھی نہیں ہوتا، ملزمان کوپکڑنا پہلے ہی ملک میں مشکل کام ہے اورپولیس کورونا کی ایمرجنسی میں مصروف ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دئیے کہ سندھ میں کرپشن کے ملزمان کو بھی رہا کر دیا گیا کرپشن کرنے والوں کا دھندا لاک ڈاؤن سے بند ہوگیا، کرپشن کی بھوک رزق کی بھوک سے زیادہ ہوتی ہے،  کرپٹ کو روزپیسہ کمانے کا چسکا لگا ہوتا ہے اسے موقع نہیں ملے گا تو وہ دیگر جرائم ہی کرے گا۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ جیلیں خالی کرنےسے کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا، قیدیوں کے تحفظ کیلئے قانون میں طریقہ کار موجود ہے۔

            جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ قانون کہتا ہے متاثرہ قیدیوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ جیلوں میں وائرس پھیلا تو الزام سپریم کورٹ پر آئے گا،جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے، کسی الزام کی پرواہ نہیں۔

عدالت نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلی۔

 سپریم کورٹ نے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کیلئے ادویات اور بستروں کی دستیابی جیلوں میں ڈاکٹرزکی خالی آسامیوں ،جیلوں میں گنجائش اور موجود قیدیوں ، میڈیکل عملے کو دستاب سہولیات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

عدالت نے جیلوں میں قیدیوں کی اسکرینگ اور قرنطینہ سینیٹرز بنانے کا بھی حکم دے دیا۔

 قیدیوں کی رہائی کی قانونی حیثیت پر آئندہ سماعت پر بحث ہوگی،بعدازاں  کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔