ہوٹلزکو ہنگامی قرنطینہ بنانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020 10:28am
فائل فوٹو

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہوٹلزکو ہنگامی قرنطینہ بنانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے  ہوٹلزکو ہنگامی صورتحال میں قرنطینہ بنانے کے خلاف درخواست پرسماعت کی۔

وکیل نجی ہوٹل نے دلائل میں کہاکہ این ڈی ایم اے کی جانب سے ہوٹل کوقرنطینہ بنانے کے احکامات جاری کئے، جن کا انہیں اختیارہی نہیں ، حکومت نجی پراپرٹی کی بجائے وزیراعظم کا گھرقرنطینہ سینٹرکے طورپرکیوں استعمال نہیں کرتی۔

جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت جوکررہی ہے عوام کے تحفظ کیلئے کررہی ہے ،عدالت مداخلت کیسے کرسکتی ہے؟۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر درخواستگزاریہ سمجھتا ہے کہ اس اقدام سے اسےنقصان ہوا ہے تووہ بعد میں ہرجانے کا دعوی کرسکتا ہے اگرعوامی تحفظ کی بات ہوتواس کیلئے حکومت میرا گھربھی استعمال کرسکتی ہے،یہ عدالت عوامی تحفظ کیلئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے متصادم کوئی فیصلہ کیسے دے سکتی ہے۔

بعدازاں اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔