لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت ہوتا توحالات مختلف ہوتے،وزیراعلیٰ سندھ

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2020 02:48pm
فائل فوٹو

کراچی :وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے وفاق سے مکمل تعاون نہ کرنے کا شکوہ کرتےہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت ہوتا توحالات مختلف ہوتے،وفاق اور صوبوں کے متضاد بیانات آئے، لاک ڈاؤن مؤثر نہ ہوسکا۔

 سندھ اسمبلی کے آیٹوریم ہال میں وزیراعلی مراد علی شاہ کا پریس کانفرنس  کرتے ہوئے کہنا تھا وہ چاہتے ہیں کورونا کیخلاف جنگ کی قیادت وزیراعظم کریں لاک ڈاؤن بغیر سوچے سمجھے نہیں کیا۔

مراد علی شاہ کاوفاق سے مکمل تعاون نہ کرنے کا شکوہ کرتےہوئے کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت ہوتا توحالات مختلف ہوتے،ہمیشہ کورونا وائرس سے آگے رہنے کی کوشش کرنا ہےجس دن وائرس  حاوی ہوگیا اس دن نظام صحت بیٹھ جائے گا،وفاق اور صوبوں کے متضاد بیانات آئے، لاک ڈاؤن مؤثر نہ ہوسکا۔

وزیراعلی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لئے انسانی زندگی بچانا سب سے اہم ہے، راشن کی تقسیم میں لوگوں کا رش لگنے سے کورونا پھیلنے کا خدشہ تھا، اس لئے پولیس اور رینجرز کی مدد سے ڈھائی لاکھ گھروں تک راشن پہنچایا گیا۔

 مراد علی شاہ نے کہا 13 مارچ کو اسلام آباد میں ایک میٹنگ ہوئی، اس وقت 28 مریض تھے  اور ایک جاں بحق ہو چکا تھا، میں نے لاک ڈائوں کی تجویز دی تھی اگر اس دن ہم  لاک ڈاؤن  لگاتے تو آج یہ صورتحال نہیں ہوتی، ہم نے 22 مارچ سے لاک ڈاؤن کیا سندھ میں لاک ڈاؤن مزید دو ہفتے بڑھانے کی تجویز ہے۔

وزیراعلی سندھ نے مزید کہا کہ تنقید کرنے والے کریں ان سے نمٹ لیں گےجو کل ہم پر تنقید  کیلئے نمودار ہوئے وہ تین تیرہ میں بھی نہیں، ان سب کو میں اچھی طرح جانتا ہوں یہ سب وزیراعظم کےایک اجلاس میں بھی نہیں آئے۔

 مراد علی شاہ کا کہنا تھا اٹھارویں ترمیم پر اس وقت بات کیا کریں، وزیراعظم  کوکہا25مارچ کو 5ہزاربجلی اور 2ہزارگیس کے بل معاف کردیں، نہیں کریں  گے تو ہم آرڈیننس لائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے مزید کہا کہ علما کرام کا بے حد شکرگزار ہوں، علما کرام نے ناقابل یقین حد تک ساتھ دیا مساجد کیلئے ہم نے طبی ماہرین اورعلما سے مشاورت کی۔