گرینڈ ہیلتھ الائنس کا چیف جسٹس کو خط: ظفر مرزا، یاسمین راشدودیگر کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ
فائل فوٹوگرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا۔اسپتالوں میں کام کرنے والے تمام اسٹاف کو کورونا سے بچاؤ کا حفاظتی سامان فراہم کرنے سمیت دیگر مطالبات خط میں لکھ دیے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر یاسمین راشد ور دیگر کےخلاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کردیا۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب کی جانب سےچیف جسٹس پاکستان کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں ٹیسٹنگ کٹس مہیا کی جائیں اور بلاتاخیر اسپتالوں کے عملے کی ٹیسٹنگ اورا سکریننگ کی جائے۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ ہیلتھ ورکرز کے خلاف تمام غیر قانونی ایف آئی آرز خارج کی جائیں اور انہیں کورونا وائرس سے نمٹنے کی ٹریننگ دی جائے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کے عملے کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی نسبت دوگنی تنخواہ دی جائے جبکہ اسپتالوں کے عملے کو ایک سال کی تنخواہ کے برابر بونس دیا جائے۔
خط میں چیف جسٹس سےالتجا کی گئی ہےکہ وزیروں اور انتظامیہ کوحکم جاری کیا جائے کہ اسپتال عملے کو برطرفی کی دھمکیاں دینا بند کی جائیں اور تمام برطرف کئے گئے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور فارماسسٹس کو فورا بحال کیا جائے۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر یاسمین راشد، عاصم رؤف، اختر حسین اور اظہر حسین کےخلاف الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔