صوبائی کابینہ کی سندھ وبائی ایکٹ 2014 ترمیمی آرڈیننس کی منظوری
فائل فوٹوکراچی :سندھ کابینہ نے سندھ وبائی ایکٹ 2014 ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی، جو گورنر کی منظوری کے بعد نافذالمعل ہوگا۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سندھ وبائی ایکٹ 2014 ترمیمی آرڈینس منظوری دی گئی۔
ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے پریس بریفنگ میں کہا کہ سندھ وبائی ایکٹ 2014 ترمیمی آرڈیننس کے تحت کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بننے پر زیادہ سے زیادہ 10لاکھ جرمانہ عائد اور کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جائے گا، گھریلوں کرایوں کی ادائیگی موخر ، پانی، بجلی، گیس کے بل اور اسکول فیس میں 20 فیصد رعایت دی جائے گی۔
آرڈیننس گورنر سندھ کی منظوری کے بعد نافذالعمل ہوگا،اجلاس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی شرح بڑھانے پر غور کیا گیا اور تجویز دی گئیں کہ سگنل توڑنے پر جرمانہ 400سےبڑھاکر 2تا5ہزار اوور لوڈنگ پر گڈز ٹرانسپورٹ پر جرمانہ 2ہزار روپے کرنے اوور ٹیکنگ پر جرمانہ 2ہزار روپے تک بڑھایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ان تجاویز پر تمام اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا چاہتا ہوں کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا جرمانہ اتنا ہوکہ دیتے ہوئے تکلیف ہوں۔
ٹڈی دل سے متاثرہ اضللاع میں فضائی اسپرے کیلئے سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت سے 6 ایئرکرافٹ مہیا کرنے کی بھی درخواست کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا اگر مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو ٹڈی دل اگلی فصلوں کو تباہ کردیں گی، جو ایک بھیانک صورتحال ہوگی۔
سندھ کابینہ نے قیدیوں کی پیرول پر رہائی کی مدت 4 سے بڑھاکر 72گھنٹے کرنے کی منظوری بھی دی اور سندھ کے تمام کمشنرز کو 144کے تحت خصوصی اختیارات دینے کی منظوری بھی دی گئی۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔